.

ایران کو "داعش تنظیم کی شکست" ہائی جیک کرنے نہیں دیں گے: امریکی نائب صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے نائب صدر مائیک پنس کا کہنا ہے کہ ان کا ملک داعش تنظیم کی شکست کو ایران کے لیے فتح میں تبدیل ہونے نہیں دے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ اگر ایرانی جوہری معاہدے کی میں اصلاحات نہیں کی گئیں تو واشنگٹن اس سے نکل جائے گا۔

پیر کے روز امریکی اسرائیلی امور عامہ کی کمیٹی کے سالانہ ایونٹ کے سامنے خطاب میں پنس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ "ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے"۔

امریکی نائب صدر نے واضح کیا کہ ایران کی جانب سے دہشت گردی کی سپورٹ سے بھی زیادہ بڑا خطرہ اس کا ایسے میزائل تیار کرنا ہے جو اسرائیل کے چپّے چپّے کو نشانے پر لے لیں۔

داعش اور ایران کے حوالے سے مائیک پنس کا یہ بیان ان مغربی رپورٹوں کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا کہ ایران شام میں داعش تنظیم اور اس کے باقی عناصر کو اُچک لینے پر کام کر رہا ہے تا کہ ایک بار پھر القاعدہ کی قیادت کے ساتھ تزویراتی اور تاریخی تعلقات کو استعمال میں لا کر القاعدہ تنظیم کو از سر نو تشکیل دیا جا سکے۔

رواں برس جنوری میں برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" کی جانب سے شائع رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ القاعدہ تنظیم نے خود کو اس قابل بنا لیا ہے کہ وہ ایران کی مدد سے اپنے ہزاروں ارکان کو بُلا سکے۔

تہران کی کوشش ہے کہ داعش تنظیم کی باقیات کو القاعدہ تنظیم میں شامل کر دیا جائے۔ اس سلسلے میں ایران القاعدہ کی اُس عسکری قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے جس نے داعش کے جنگجوؤں کو جمع کرنے کے لیے دمشق کا سفر کیا۔ ایران ایک نئی القاعدہ تنظیم کی تاسس چاہتا ہے جو ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی طرز پر ہو۔

داعش تنظیم کے خلاف برسر پیکار بین الاقوامی اتحاد کو اندیشہ ہے کہ ایران داعش تنظیم کی عراق اور شام میں شکستوں سے فائدہ اٹھا کر اسے القاعدہ تنظیم کو پھر سے زندہ کرنے کے واسطے استعمال کرے گا۔