.

سعودی عرب کے بحری جہازوں کے سات کمپنیوں سے مذاکرات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی حکومت سیاحت کے فروغ کے لیے بحری سیاحت میں گہری دلچسپی لے رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الریاض حکومت نے سات ’ CRUISE‘ کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب دوسری جانب سعودی عرب کے شمال مغرب میں بحر الاحمر اور نیوم جیسے دو غیرمعمولی سیاحتی منصوبوں، اس کے بالمقابل شرم الشیخ،الغردقہ اور العقبہ جیسے ساحلی سیاحتی مقامات بھی بحر الاحمر اور خلیج عقبہ کا عالمی سیاحتی نقشہ تبدیل کررہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام مقامات ایک دوسرے سے صرف تین گھنٹے کی مسافت پر ہیں اور ان میں سیاحوں کی رسائی کے لیے کم سے کم وقت کے سفر کے لیے پورا اہتمام کیا جا رہا ہے۔

یہ تمام سیر گاہیں سمندر کے ایک کنارے پر واقع ہونے سے یورپی سیاحتی کمپنیوں کے لیے غیرمعمولی کشش رکھتے ہیں۔ ان مقامات پر سردیوں کے موسم میں موسم معتدل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گرمیوں کے اختتام کے ساتھ ہی بحر روم اور سے بحر الاحمر تک یورپی جہاز ران کمپنیاں سیاحوں کے لیے خصوصی بحری سفر کا اہتمام کرتی ہیں۔

سعودی عرب اور مصر سمیت دیگر ممالک کے ساحلی سیاحتی مقامات میں سیاحت کے فروغ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کارینین سی، بحر ہند اور اطراف کے سمندروں میں عالمی بحری ٹریفک کو غیرمعمولی مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

حال ہی میں سعودی عرب نے غیرمعمولی نوعیت کے جدید بحری جہاز چلانے والی سمندری سیاحتی کمپنیوں کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں۔

سعودی حکومت نیوم پروجیکٹ کےضمن میں جدید مسافر بردار کشتیوں کی خریداری کے ساتھ بحر الاحمر کی نئی سیرگاہوں پر سیاحوں کے لیے میرین کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔

سعودی عرب، مصر اور اردن کی سمندری سیر گاہیں نہ صرف تینوں ممالک کی آبی سیاحت کو ایک دوسرے سے جوڑ دیں گے بلکہ یہ تینوں ملکوں کے ریوینیو میں بھی اضافے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوں گی۔ عالمی کمپنیوں کو خطے میں جہاز رانی کے ایک نئے مقابلے کا سامنا کرنا پڑے گا اور بین الاقوامی سطح پر سمندری سیاحت کے حوالے سے سعودیہ، مصر اور اردن کے سیاحتی مقامات میں دلچسپی بڑھے گی۔