.

الغوطہ کے جنگجوؤں نے "محفوظ خُروج" کے حوالے سے ماسکو کے دعوے کو جُھٹلا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ شامی اپوزیشن کے بعض جنگجو اپنے اہل خانہ کے ساتھ الغوطہ الشرقیہ سے محفوظ طور پر نکل جانے سے متعلق روسی تجویز قبول کرنا چاہتے ہیں۔ برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق روسی وزارت دفاع نے "الغوطہ الشرقیہ میں انسانی بنیادوں پر ایک نئی جنگ بندی" کے آغاز کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل منگل کے روز روسی فوج نے الغوطہ الشرقیہ میں موجود شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کے لیے علاقے سے محفوظ طور پر نکل جانے کی پیش کش کی تھی۔ روسی فوج نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ "پیش کش قبول کرنے والے اپوزیشن کے ہر جنگجو کے لیے عدالتی مامونیت کی ضمانت دی جائے گی"۔

تاہم الغوطہ الشرقیہ میں شامی اپوزیشن کی ایک اہم ترین جماعت جیش الاسلام کے عسکری ترجمان حمزہ بیرقدار نے بدھ کے روز اس امر کی تردید کی ہے۔ بیرقدار نے ایک تحریری پیغام میں برطانوی خبر رساں ایجنسی کو باور کرایا کہ " اس حوالے سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہو رہے ہیں۔ الغوطہ کے جنگجو اور ان کے اہل خانہ اپنی سرزمین پر ڈٹے ہوئے ہیں اور وہ اس کا دفاع کریں گے"۔

منگل کے روز "فیلق الرحمن" جماعت نے الغوطہ الشرقیہ سے اپوزیشن جنگجوؤں کے محفوظ خروج سے متعلق تجویز کے حوالے سے روس کے ساتھ کسی بھی رابطے کی تردید کی تھی۔