.

حوثیوں کی بغاوت کے باعث 92ہزار یمنی شہری معذور ہو چکے:رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے منگل کے روز جاری کی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2014ء کو یمن کی آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد ایران نواز حوثی باغیوں کی کارروائیوں میں کم سے کم 92 ہزار افراد معذور ہوچکے ہیں۔ مجموعی طورپر یمن میں معذور افراد کی تعداد ایک ملین سے تجاوز کرگئی ہے۔

یمن میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے کی طرف سے جنیوا میں انسانی حقوق کونسل میں ایک رپورٹ پیش کی ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر ممنوعہ بارودی سرنگوں کے نتیجےمیں بڑی تعداد میں یمنی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ یہ بارودی سرنگیں شہریوں کے لیے ٹائم بم کی طرح خطرہ ہیں۔ حوثی باغی اپنے مذموم مقاصد کے لیے نہ صرف بارودی سرنگوں کو مزید بچھا رہے ہیں بلکہ یمن کے کئی اہم علاقے اب بھی بارودی سرنگوں کے حوالے سے خطرے میں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمنی شہریوں کی معذوری کا ایک بڑا سبب حوثیوں کی بچھائی گئی بارودی سرنگیں ہیں۔ رپورٹ میں انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ یمن میں اندھا دھند بارودی سرنگیں بچھانے کی پالیسی کا سختی سے نوٹس لیں کیونکہ یہ سرنگیں یمن میں بہت بڑی تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع کا موجب بن رہی ہیں۔

یمن میں انسانی بہبود کے لیے کام کرنے والی 350 تنظیموں پر مشتمل اتحاد نے حوثیوں کی طرف سے مسلسل مداخلت کے باعث اپنی سرگرمیاں معطل کردی ہیں۔