.

شام : مشرقی الغوطہ میں حالیہ حملوں میں 800 شہری مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی فوج کی باغیوں کے زیر قبضہ علاقے مشرقی الغوطہ پر گذشتہ دو ہفتے سے جاری تباہ کن فضائی بمباری اور زمینی گولہ باری کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ سو شہری مارے گئے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے منگل کے روز شہریوں کی ہلاکتوں کے یہ نئے اعداد وشمار جار ی کیے ہیں اور اس نے بتایا ہے کہ روس کی حمایت یافتہ شامی فورسز نے 18 فروری کو باغیوں کے زیر قبضہ آخری علاقے مشرقی الغوطہ پر تباہ کن فضائی حملوں کا آغاز کیا تھا۔ان میں 177 بچوں سمیت 780 سے زیادہ شہری مارے گئے ہیں۔

دمشق کے نواح میں واقع اس علاقے کے ایک قصبے جسرین میں اسد رجیم کے تازہ فضائی حملوں اور جھڑپوں میں نو شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔رصدگاہ نے مزید بتایا ہے کہ شامی فوج کی سوموار کی صبح سے جاری بمباری کے نتیجے میں 95 شہری مارے جاچکے ہیں۔شامی فوج نے تباہ کن فضائی حملوں کی مدد سے زمینی پیش قدمی جاری رکھی ہوئی ہے اور اس نے محاصرہ زدہ مشرقی الغوطہ کے قریباً40 فی صد علاقے پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔مشرقی الغوطہ کے شمال مشرق ، وسط اور جنوب مشرقی علاقے میں جھڑپوں کی اطلاعات ملی ہیں۔

شامی رصدگاہ نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ اسد ی فوج کے لڑاکا طیاروں نے مشرقی الغوطہ میں واقع مرکزی شہر دوما سمیت مختلف علاقوں پر تباہ کن بمباری کی ہے اور انھوں نے دو قصبوں سبقہ اور حموریہ پر بھی حملے کیے ہیں۔

اے ایف پی کے ایک نامہ نگار کے مطابق دوما پر تباہ کن بمباری کے نتیجے میں سڑک کنارے واقع مکانات ملبے کا ڈھیر بن گئے ہیں۔حموریہ پر بمباری کے بعد چند ایک شہری ہی اپنی محفوظ پناہ گاہوں سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔حموریہ پر سوموار کی شب شامی فوج کے ایک حملے کے بعد اٹھارہ افراد کو سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن رصدگاہ نے یہ نہیں بتایا کہ آیا انھیں کسی کیمیائی حملے کے نتیجےمیں اس صورت حال کا سامنا ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق شامی فوج نے وہاں کیمیائی ہتھیاروں سے نیا حملہ کیا ہے۔

مشرقی الغوطہ میں واقع شہروں ، قصبوں اور دیہات میں اس وقت کم سے کم چار لاکھ افراد مقیم ہیں اور وہ 2013ء سے شامی فوج کے محاصرے میں ہیں۔ انھیں فوری طور پر خوراک ، ادویہ اور دوسری اشیائے ضروریہ کی ہنگامی بنیاد پر ضرورت ہے۔ایک مغربی سفارت کار کا کہنا ہے کہ مشرقی الغوطہ کی صورت حال بھی 2016ء کے آخر میں مشرقی حلب کی صورت حال جیسی ہے۔وہاں بھی شامی حکومت نے امدادی قافلوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی تھی اور باغی گروپ عام شہریوں کی زندگیاں بچانے کے لیے شامی حکومت سے کڑی شرائط پر جنگ بندی کے سمجھوتے پر متفق ہوگئے تھے ۔ پھر مشرقی حلب پر شامی فورسز نے دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔

یادرہے کہ شام میں مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف پُرامن احتجاجی مظاہروں نے بعد میں خانہ جنگی کی صورت اختیار کر لی تھی اور اب اس ملک میں ایک کثیر الجہت جنگ جاری ہے۔اس میں اب تک محتاط اندازوں کے مطابق 340000 سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں اور لاکھوں بے گھر ہوچکے ہیں۔اسد حکومت اب شامی باغیوں کے زیر قبضہ رہ جانے والے علاقوں کے مکینوں کو سرنِگوں کرنے کے لیے ہلاکت آفریں ہتھیار استعمال کررہی ہے۔