.

قطر ہمارے ملک میں بڑی آبادیاتی تبدیلی کا خواہاں ہے: لیبیائی رکن پارلیمنٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے ایک رکن پارلیمنٹ علی السعیدی نے الزام عائد کیا ہے کہ ملک کے جنوب میں ہونے والے واقعات کے پیچھے قطر کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوحہ اس وقت لیبیا میں ایک بڑی آبادیاتی تبدیلی چاہتا ہے جس کے ذریعے اس کا لیبیا میں دہشت گردی کا اڈہ قائم کرنے کا خواب پورا ہو سکے۔

لیبیائی عہدے داران نے ملک کے جنوب میں غیر ملکی فورسز کے وجود کا انکشاف کیا ہے جو امن و امان خراب کرنے اور دوحہ کے حمایت یافتہ ملسح عناصر اور ملیشیاؤں کی واپسی کے لیے کوشاں ہیں۔

دوسری جانب لیبیا کی مسلح افواج کے ترجمان کرنل احمد المسماری نے باور کرایا ہے کہ بعض علاقوں میں ان کی فورسز کی پیش قدمی کے دوران وہاں قطری موجودگی کے ثبوت ملے ہیں۔ المسماری نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ایسی بکتر بند گاڑی کی وڈیوز بھی ہاتھ آئی ہیں جس پر قطر کا پرچم نظر آ رہا ہے۔ یہ گاڑیاں 2014ء سے بنغازی میں انصار الشریعہ تنظیم کے ساتھ مل کر لڑائی میں شریک ہے۔

ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ قطر نے لیبیا میں دہشت گرد ملیشیاؤں کی ایسے ڈرون طیاروں کے ذریعے سپورٹ کی ہے جن میں کیمرے نصب ہیں۔المسماری نے ایک دستاویز کا بھی انکشاف کیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے لیے قطر کے عسکری طیارے لیبیا میں اُترے جن کو لیبیا کی فوج نے نشانہ بنایا۔