.

محمد بن سلمان کا برطانیہ کا دورہ ، 100 ارب ڈالر کے سمجھوتے متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ برطانیہ کے موقع پر دارالحکومت لندن میں بن سلمان کی اُن کوششوں کو سراہنے سے متعلق عبارتیں آویزاں کی گئی ہیں جو وہ سعودی عرب میں بنیادی تبدیلیاں لانے کے حوالے سے کر رہے ہیں۔ اسی طرح اس دورے سے متعلق ایک خصوصی ویب سائٹ بھی بنائی گئی ہے۔ برطانوی خاتون وزیراعظم ٹریزا مے نے ویب سائٹ پر جاری بیان میں باور کرایا ہے کہ خلیج کا امن برطانیہ کا امن ہے اور خلیج کی ترقی درحقیقت برطانیہ کی ترقی ہے۔

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کے مطابق توقع ہے کہ بطور ولی عہد شہزادہ سلمان کے پہلے سرکاری دورے میں 100 ارب ڈالر کے سمجھوتے دیکھنے میں آئیں گے۔ ان سمجھوتوں میں نجی سیکٹر کے ساتھ معاہدے اور مفاہمتی یادداشتیں شامل ہوں گی۔ سعودی عرب اور برطانیہ ٹکنالوجی، تعلیم اور سکیورٹی کے شعبوں میں باہمی تعاون کے لیے کوشاں ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات طویل المیعاد ہونے کے علاوہ کئی شعبوں میں انتہائی قریبی نوعیت کے ہیں۔

امریکا کے بعد برطانیہ مملکت سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے والا دوسرا بڑا فریق ہے۔ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تقریبا 300 مشترکہ منصوبے ہیں جن میں سرمایہ کاری کے مجموعی حجم کا اندازہ 17.5 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں میں سعودی عرب اور برطانیہ کے درمیان دو طرفہ تجارت کا حجم 2.3 ارب پاؤنڈز تک پہنچ گیا ہے۔ سعودی عرب مشرق وسطی میں برطانیہ کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ 2023ء تک ساز و سامان اور قابل تجدید توانائی کی خدمات کی مد میں سعودی عرب کے لیے برطانوی برآمدات کا حجم 30 کروڑ پاؤنڈز سے زیادہ ہو جائے گا۔ برطانیہ کی انٹرٹینمنٹ کمپنیVue International سعودی عرب میں 30 سینیما ہاؤسز کھولنے کے لیے شراکت داری کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان سیاحت کے سیکٹر میں بھی تعلقات کا دائرہ وسیع تر ہوتا جا رہا ہے۔ خلیجی باشندے مغربی دنیا کے جن یورپی شہروں کا رُخ کرتے ہیں لندن اُن تمام شہروں میں سرفہرست ہے۔ ان خلیجی باشندوں میں 20% سعودی شہری ہوتے ہیں جو ہر دورے میں 2400 برطانوی پاؤنڈز کے قریب خرچ کرتے ہیں۔ توقع ہے کہ 2020ء تک سعودی باشندوں کے برطانیہ کے دوروں میں 20% اضافہ ہو جائے گا۔ اسی طرح ہر سال تقریبا ایک لاکھ برطانوی شہری سعودی عرب کا دورہ کرتے ہیں۔ ان میں 24 ہزار برطانوی حج اور عمرے کے سفر کے واسطے مکہ مکرمہ کا رخ کرتے ہیں۔