سعودی عرب میں اصلاحات ایران کے لیے رول ماڈل بن گئیں

خواتین کے حقوق اور انسداد بدعنوانی مہم میں ایران سعودیہ کی راہ پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں بدعنوانی کے خلاف جاری مہم کو نہ صرف ملکی سطح پر غیرمعمولی حمایت اور پذیرائی حاصل ہوئی ہے بلکہ اس کی باز گشت سات سمندر پار بھی سنائی دے رہی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق کھیل کے میدان میں خواتین کو میچ دیکھنے کی اجازت دینے اور کرپشن کے خلاف جاری سعودی عرب کی مہم کو ایران نے بھی رول ماڈل کے طورپر اپنانے کی پالیسی اپنائی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب میں بدعنوانی کی مہم کو متنازع بنانے کے لیے ایرانی میڈیا نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا۔ اب وہی ایران ہےجس نے سعودی عرب کی انسداد بدعنوانی مہم کو اپنے ہاں ایک نمونے کے طورپر اپنانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ نہ صرف کرپشن کے خلاف کارروائی بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے بھی ایران سعودی عرب کی راہ پر چلنے لگا ہے۔

اس کی تازہ مثال حال ہی میں اس وقت دیکھی گئی جب ایرانی صدر حسن روحانی نے بین الاقوامی فٹ بال فیڈ ریشن کے چیئرمین ’جیانی انفانٹینو‘ سے ملاقات میں یقین دلایا کہ ان کا ملک خواتین کو میچ دیکھنےاسٹیڈیم میں جانے کی اجازت دینے کا مطالبہ جلد پورا کرے گی تاہم اس حوالے سے کوئی خاص تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

سعودی عرب میں جاری اصلاحات پر دشنام طرازی کرنے والے ایران نےخود بھی سعودی عرب ہی کا اسلوب اپنانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ ایران کی مجلس شوریٰ کے 290 ارکان میں سے 166 کے خلاف کرپشن کی کارروائی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ اور شوشل میڈیا پر جاری بحث میں کہا جا رہا ہے کہ ایران میں کرپشن کے انسداد کے لیے مہم چلانے کے پیچھے حالیہ عرصے کے دوران ہونے والے ملک گیر مظاہرے بھی ہیں۔ ان مظاہروں نے حکومت کو کرپشن کے خلاف کارروائی پر مجبور کیا ہے۔

ایران میں متوقع طورپر شروع کی جانے والی انسداد بدعنوانی مہم میں شہروں کے میئرز، سپریم لیڈر کے مندوبین، مسلح افواج کے افسران، ارکان پارلیمنٹ، جج اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری عہدیدار لپیٹےجاسکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران کے دستور کے آرٹیکل 94 میں سرکاری عمال سے رقوم واپس لے کر قومی خزانے میں جمع کرانے کی قانونی سفارش موجود ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں