معاشی بحران، قطری قومی ایئرلائن نے گھٹنے ٹیک دیئے

سروس جاری رکھنے کے لیے کمپنی کو مالی سہارے کی تلاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چار عرب ممالک کی طرف سے دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزام کے بعد قطر کو سنگین مالی اور معاشی بحران سے گذرنا پڑ رہا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق قطر کی سرکاری فضائی کمپنی بھی شدید مالی خسارے سے دوچار ہے اور اس نے سروس جاری رکھنے کے لیے اضافی رقوم کا تقاضا کیا ہے۔

بلومبرگ خبر رساں ادارے کے مطابق قطری فضائی کمپنی کے چیئرمین اکبر الباکر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمپنی سروسزجاری رکھنے کے لیے اسے مالی وسائل کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ چار عرب ممالک کی طرف سے بائیکاٹ کے نتیجے میں قطری فضائی کمپنی کو پچھلے سال بے پناہ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سروسز جاری رکھنے کے لیے کمپنی کو اضافے پیسے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال کے جواب میں الباکرکا کہنا تھا کہ کمپنی کو لیکوڈ رقم کی شدید کمی کا سامنا ہے۔ سعودی عرب، بحرین، امارات اور مصر کی طرف سے بائیکاٹ کے بعد قطری ایئرلائن کو مشکلات کا سامنا ہے۔

قبل ازیں اکبر الباکر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ رواں سال کے دوران تین ماہ میں کمپنی کو کافی مالی خسارے کا سامنا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تین خلیجی عرب ممالک اور مصر کی طرف سے کمپنی کے بائیکاٹ کے باعث قطری فضائی کمپنی کی آمدن میں غیرمعمولی کمی آئی ہے۔

خیال رہےکہ گذشتہ برس کے وسط میں سعودی عرب کی قیادت میں چار عرب ملکوں نے قطر کا سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کردیا تھا۔ قطر پر دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور انہیں رقوم فراہم کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے تاہم قطر ان الزامات کو بے بنیاد قراردے رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں