اعضاء چکنا چور،تشدد موت ’غوطہ میں زمین پر جہنم‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ میں اسد رجیم اور اس کے حواریوں کی طرف سے برپا قیامت خیز تباہی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگ بندی کی مساعی کے باوجود اسدی فوج دمشق کے مصیبت زدہ علاقے میں مسلسل وحشیانہ بمباری جاری رکھے ہوئےہے۔ مشرقی الغوطہ کے مفلوک الحال عوام دو ہفتوں سے اذیت اور عذاب مسلسل کا سامنا کر رہے ہیں۔ دو ہفتوں سے جاری تباہ کن بم باری ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے ’یونیسیف‘ نے بجا طورپر الغوطہ کو ’زمین پر جھنم‘ قرار دیا ہے۔ دو ہفتوں سے شامی درندہ صفت فوج نے 1005 نہتے شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جب کہ 4829 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کےمطابق 18 روز سے تباہ کن بمباری کے نتیجے میں 915 عام شہری مارے گئے ہیں۔ صرف بدھ کے روز 91 شہری جاں بحق ہوئے۔ مہلوکین میں بیشتر خواتین اور بچے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے مندوبین کی تیار کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ الغوطہ کے نواحی علاقوں مسرابا، حموریہ، الفرار ڈاریکٹوریٹ میں دسمبر کے مہینے میں 50 ہزار افراد کی موجودگی کا پتا چلایا گیا تھا۔

مشرقی الغوطہ کی تباہی اور انسانی بدحالی کو دیکھ کراسے بیان کرنے کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ یونیسیف نے الغوطہ میں بشارالاسد کی حکومت کی طرف سے ڈھائی جانے والی مصیبت کو ’زمین پر جہنم‘ قرار دیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ الغوطہ میں محصور ہونے والے عام شہریوں بالخصوص بچوں کے حقوق بری طرح پامال ہو رہے ہیں۔ زخمی بچوں اور فاقہ کشی کے شکار افراد تک امدادی اداروں کی رسائی بھی مشکل ہے۔

خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ سے بات کرتے ہوئے یونیسیف کے اداروں کا کہنا ہے کہ الغوطہ میں ہرطرف تشدد، خون، لاشیں، موت اور زخموں سے چور زندہ انسانی لاشے پڑے ہیں۔ خوراک اور ادویات تو کیا ان زخمیوں کو پانی تک میسور نہیں۔ اسدی فوج کی بمباری اور کیمیائی ہتھیاروں سے کیے جانے والے حملوں کے بعد وبائیں بھی ٹوٹ پڑی ہیں۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کی طرف سے اسدی فوج کے زیرکنٹرول علاقوں پر گولہ باری کی گئی جس کے نتیجےمیں دو بچے جاں بحق ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق ریڈ کراس اور دیگر امدادی اداروں نے الغوطہ میں امدادی سامان بھجوانے کی کوشش کی مگر اسدی فوج کی مسلسل بمباری کے باعث امدادی کارکن آگے نہیں جا سکے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسدی فوج کی کارروائیوں کے بعد الغوطہ دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔ مشرقی الغوطہ کے نصف حصے کو اسدی فوج نے باغیوں سے چھڑالیا ہے۔ بدھ کے روز اپوزیشن نے الاشعری اور بیت سوا کے ساتھ ساتھ المزارع کے بعض مقامات سے اسدی فوج کو نکال دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں