الحشد ملیشیا عراقی فوج میں شامل، مالی مراعات فوج کے برابر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے ایک سرکاری فرمان کے ذریعے شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کو باضابطہ طور پر فوج کا حصہ قرار دیتے ہوئے انہیں فوج کے برابر تنخواہیں اور دیگر مالی مراعات دینے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق وزیراعظم العبادی کے حکم کے بعد الحشد الشعبی میں شامل عناصر کو باقاعدہ فوجی سپاہیوں اور افسران کا درجہ حاصل ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ الحشد ملیشیا کے بیشتر عناصر کو ایران میں عسکری تربیت فراہم کی گئی ہے۔ ایرانی تربیت یافتہ ملیشیا کے عراقی فوج میں شامل ہونے سے بہت سے حلقوں کو تشویش لاحق ہے کیونکہ الحشد ملیشیا پر ماضی میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فوج میں شامل ہونے والے الحشد عناصر کو فوج کے برابر مالی مراعات، تنخواہیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن دی جائے گی۔ نیز ان کی ملیشیا میں شمولیت میں عرصے کو بھی فوجی سروس کا حصہ سمجھا جائے گا۔ فوج میں شمولیت کے بعد الحشد کو فوج کے مراکز اور کیمپوں میں منتقل کر دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ عراق میں دو ماہ بعد پارلیمانی انتخابات کا اعلان کیا گیا ہے۔ انتخابات سے دو ماہ قبل بغداد حکومت کی طرف سے الحشد کو فوج میں شامل کرنے کے اقدام کو ’سیاسی رشوت‘ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ توقع ہے کہ الحشد ملیشیا ووٹروں پر اثر انداز ہو کر آنے والے صدارتی انتخابات میں اہل تشیع کی پارلیمنٹ میں اکثریت میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ الحشد ملیشیا عراق کی سب سےبڑی اور منظم شیعہ عسکری تنظیم قرار دی جاتی ہے جس میں 60 ہزار تربیت یافتہ جنگجو شامل ہیں۔

ماضی میں الحشد ملیشیا کو ایران کی طرف سے مالی معاونت کے ساتھ ساتھ عسکری تربیت بھی فراہم کی جاتی رہی ہے۔ ایران نے عراقی حکومت کو متعدد بار خبردار بھی کیا کہ وہ الحشد کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کرے۔ ایران کی سپریم سیکیورٹی کونسل کے چیئرمین علی شمخانی نے حال ہی میں ایک بیان میں کہا تھا کہ الحشد کو ختم کرنا بہت بڑی سازش تصور کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں