صہیونی فوج کی فلسطینی یونیورسٹی میں بربریت کی ویڈیو جاری

قابض فوجی خود کو صحافی ظاہر کر کے یونیورسٹی میں داخل ہوئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی یونیورسٹی پر اسرائیلی فوجی کمانڈوز نے دھاوا بول کر نہتے طلباء اور اساتذہ کو تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی کھلے عام توہین کی۔

جامعہ بیرزیت کے وائس چانسلر عبدالطیف ابو حجلہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے صہیونی اسپیشل فورس کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صہیونی فوج نے جامعہ کے ہزاروں طلباء کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کی اسپیشل یونٹ کے کمانڈوز نے خود کو صحافی ظاہرکیا اور اندر داخل ہوتے ہی طلباء اور اساتذہ پراندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ طلباء کو بے دردی کے ساتھ گھیسٹا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

خیال رہے کہ جامعہ بیرزیت آج سے 42 سال پیشتر قائم کی گئی تھی۔ یہ پہلا موقع نہیں جب صہیونی فوج نے یونیورسٹی پر دھاوا بولا اور طلباء واساتذہ کو توہین آمیز سلوک کا نشانہ بنایا ہے بلکہ صہیونی فوج ماضی میں بھی دن اور رات کے اوقات میں یونیورسٹی کیمپس پر دھاوے بولتی رہی ہے۔

گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے فلسطینی طلباء کونسل کے سربراہ عمر الکسوانی کو حراست میں لینے کے بعد کیمپس میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی تھی۔

ابو حجلہ نے کہا کہ وہ یونیورسٹی پر صہیونی فوج کے دھاوے کو فلسطینی، عرب اور عالمی اداروں میں اٹھائیں گے کیونکہ یہ طلباء کے خلاف صہیونی فوج کا سنگین جرم ہے جس کے نتیجے میں طلباء کی زندگیاں خطرے میں پڑ چکی ہیں۔

درایں اثناء عینی شاہدین نے بتایا کہ صہیونی فوج کی بھاری تعداد نے کل بدھ اور آج جمعرات کو بھی جامعہ بیرزیت پر چھاپے مارے۔ طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایا اور دفاتر میں گھس کر قیمتی سامان کی توڑپھوڑ کی۔ قابض فوج نے اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے مقرب طلباء گروپ اسلامک بلاک کے سرکردہ رکن عمر الکسوانی کو حراست میں لے لیا۔

خیال رہے کہ جامعہ بیرزیت میں 13 ہزار فلسطینی طلباء طالبات زیرتعلیم ہیں۔ یہ فلسطین کی پرانی جامعات میں سے ایک ہے جو آج سے 42 سال قبل قائم کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں