جدہ کی سڑکوں پر سعودی خواتین کی "جاگنگ"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب میں نوجوان خواتین کے ایک گروپ نے خواتین کا عالمی دن اپنے خاص انداز سے منا کر عوامی حلقوں کو حیران کر دیا۔ ٹریک سوٹ اور عبایا میں ملبوس خواتین نے جمعرات کے روز جدہ شہر کے تاریخی علاقے البلد میں جاگنگ کے انداز میں دوڑ لگائی تو علاقے کی تنگ اور خاموش گلیوں میں ہلچل سی مچ گئی۔

اس سرگرمی میں شریک خواتین کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام مملکت میں کھیلوں میں خواتین کی شرکت کو سپورٹ کرنے کے حوالے سے کئی سرکاری فیصلوں کے بعد عمل میں آیا۔ ان میں خواتین کے لیے کھیلوں کے میدان میں آںے کی اجازت اور جنرل اسپورٹس اتھارٹی میں شہزادی ریمہ بنت بندر کی سربراہی میں خواتین کے شعبے کا قیام اہم ترین پیش رفت ہے۔

سعودی وزیر تعلیم کی جانب سے جاری فیصلے کے مطابق نئے تعلیمی سال سے لڑکیوں کے اسکولوں میں جسمانی تربیت کے پروگرام کا بھی آغاز کر دیا جائے گا۔ چند روز قبل سعودی عرب کے ضلعے الاحساء میں پہلی مرتبہ خواتین کی میراتھن ریس کا انعقاد کیا گیا۔ ریس میں 1500 سے زائد لڑکیوں اور خواتین نے شرکت کی تھی۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جدہ میں خواتین کی جاگنگ میں شریک ایک یونی ورسٹی طالبہ سما کا کہنا ہے کہ "سعودی خواتین کے حوالے سے ہر چیز تبدیل ہو جائے گی"۔ مذکورہ طالبہ سینیما کے شعبے میں زیرِ تعلیم ہے۔

جدہ کے اس ایونٹ کے منتظم گروپ کی ایک رکن یاسمین حیسن کا کہنا ہے کہ "اس جاگنگ پروگرام کا مقصد مملکت کی خواتین کو یہ پیغام پہنچانا تھا کہ آئیے .. آپ تنہا نہیں ہیں .. ہم اپنے خوابوں کو مل کر یقینی بنائیں گے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں