مقتول یمنی خاتون امدادی کارکن کے نام سےسالانہ ایوارڈ جاری

ریھام البدر کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کا منفرد اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی روک تھام کے لیے قائم اتحاد نے حوثیوں کے ہاتھوں بے رحمی کے ساتھ قتل کی جانے والی نوجوان سماجی و امدادی کارکن ’ریھام البدر‘ کے نام سے سالانہ امن ایوارڈ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایوارڈ شہیدہ ریھام البدر کی خدمات اور قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔

خیال رہے کہ یمن میں انسانی حقوق کے باب میں خدمات انجام دینے والی نوجوان کارکن کو حوثی درندوں نے گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ ریھام البدر کے وحشیانہ قتل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیاتھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی خاتون سماجی کارکن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے اس کے نام سالانہ امن ایوارڈ مسوم کرنے کا اعلان جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے ایک اجلاس کے موقع پر کیا گیا۔ ریھام البدر کےنام سالانہ امن ایوارڈ جاری کرنے کی سفارش کرنے والوں میں یمن،عرب ممالک اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں کام کرنے والے انسانی حقوق کے ادارے شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی خاتون کارکن اور قانون دان ھدیٰ الصراری نے کہاکہ ’ریھام البدری‘ ایوارڈ سالانہ کی بنیاد پر انسانی حقوق کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دینے والے کارکنوں اور اداروں کو دیا جائےگا۔ ان کا کہنا تھا کہ یمن میں حوثی درندوں کے ہاتھوں بے دردی سے شہید کی جانے والی کارکن ریھام البدر کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اس کے مشن کو زندہ رکھنے کے ساتھ اسے عقیدت پیش کرنے کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔

خیال رہے کہ ریھام البدرکو حوثی شرپسندوں نے چند ہفتے قبل تعز میں گولیاں مار کر شہید کردیا تھا۔ ریھام اور اس کے ساتھی مومن سعید کو اس وقت گولیاں ماری گئیں جب وہ جنگ سے متاثرہ شہریوں کی مددکے لیے جا رہی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں