ایردوآن کا نیٹو سے شام میں عسکری مداخلت کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے شام میں کُرد جنگجوؤں کے خلاف انقرہ کے فوجی آپریشن کو سپورٹ نہ کرنے پر نیٹو اتحاد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ہفتے کے روز اپنے حامیوں کے ایک اجتماع میں گفتگو کرتے ہوئے ایردوآن نے نیٹو پر دُہرے معیار کا الزام عائد کیا۔

ترکی کے صدر نے کہا کہ اُن کے ملک سے مطالبہ کیا جاتا ہے تو وہ تنازع کے علاقوں میں اپنے فوجیوں کو بھیج دیتا ہے مگر اس کے مقابل ترکی کو کوئی سپورٹ نہیں ملتی۔

ترکی نے شام کے شمال مغربی علاقے عفرین کو کرد جنگجوؤں سے پاک کرنے کے لیے کُرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف 20 جنوری سے ایک فوجی آپریشن شروع کر رکھا ہے۔

انقرہ کرد پروٹیکشن یونٹس کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے جب کہ نیٹو اتحاد اور امریکا داعش تنظیم کے خلاف لڑائی میں کرد پروٹیکش یونٹس کی سپورٹ کر رہے ہیں۔

رجب طیب ایردوآن نے نیٹو پر زور دیا کہ وہ ترکی کی مدد کرے کیوں کہ اُن کے ملک کی سرحد کو "اس وقت خطرہ لاحق ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں