سعودی عرب اور عراق کے درمیان قربت پر ایران شدید مضطرب : اکنامسٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی جریدےEconomist کی ایک رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور عراق کے درمیان تعلقات کا استحکام ایران کی نیندیں حرام کر رہا ہے۔ تہران کو یہ غم کھا رہا ہے کہ اس طرح وہ عراق میں اپنے رسوخ سے ہاتھ دھو بیٹھے گا اور بغداد حکومت اس سے دور ہو جائے گی۔ اسی وجہ سے ایران عراق میں اپنے حلیفوں کے ساتھ مل کر مذکورہ قربت کے خلاف حرکت میں آ گیا ہے۔

ریاض اور بغداد کے درمیان تعلقات کی مضبوطی پر ایران ک یتشویش کا آغاز حالیہ دنوں میں نہیں ہوا جب کہ اس دوران بصرہ میں سعودی قونصل خانے کا پھر سے افتتاح ہوا، شہر کے اسٹیڈیم میں دونوں ملکوں کی ٹیموں کے مابین تاریخی فٹبال میچ منعقد ہوا اور فضائی پروازوں اور تجارتی تعلقات کا دوبارہ آغاز ہوا۔

درحقیقت ایران کی پریشانی اور اضطراب اکتوبر 2017ء میں اُس وقت سے شروع ہو گئی تھی جب عراقی وزیراعظم کا طیارہ ریاض کے ہوائی اڈے پر اترا تھا۔ اس کے بعد سے تہران عراق میں ایرانی رسوخ کی بتدریج کمی کے حوالے سے اپنی تشویش کو چھپا نہیں سکا۔

ایسے میں جب کہ یہ تبدیلیاں واشنگٹن کے لیے راحت کا سامان ہیں، ایران اس سعودی عراقی قربت کے بیچ رکاوٹ ڈالنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ وہ اپنے عراقی حلیفوں کے ساتھ مل کر اب یہ شوشے چھوڑ رہا ہے کہ مذکورہ قربت مذہبی مسالک کے لیے ایک خطرہ ہے۔ تہران نے جنوبی عراق میں قبائلی تنازعات بھڑکائے اور وہ اس قربت کے خلاف مستقبل میں حکومت کی تشکیل کے لیے بھی کوشاں ہے۔

امریکی جریدے Economist کے مطابق سعودی عرب کی نئی پالیسی عراقیوں کے درمیان کامیابی سے ہم کنار ہو گی جو 1980ء کی دہائی میں ایران کے خلاف سخت ترین جنگ لڑ چکے ہیں۔ تاہم سعودی عرب اور عراق کے قریب آنے کا پھل کھانے کے لیے صبر اور وقت چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں