.

حوثیوں کی فوجی قیادت کے لیے فرقہ وارانہ تعلیمی کورسز کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے بارے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ وہ اپنے زیرانتظام وزارت دفاع کے سینیر عہدیداروں کو فرقہ واریت کی تعلیم دینے کے لیے باقاعدہ کورسز کا اہتمام کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نےصنعاء کے ایک ذمہ دار ذریعے کےحوالے سے بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے خفیہ طورپر بنی حشیش کے مقام پر فرقہ وارانہ تعلیمات کا ایک کورس کرایا جس میں 42 سینیر فوجی عہدیداروں کو شامل کیا گیا۔ دس روزہ کورس میں ان فوجی افسروں کو شیعہ مسلک کی تعلیم دینے کے ساتھ انہیں فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑکی کی تربیت دی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عوام کی توجہ سے بچنے کے لیے کورس کی جگہ پر کسی قسم کی سیکیورٹی کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ کورس کے اختتام پر شرکت کرنے والے ہر فرد کو ایک لاکھ یمنی ریال کی رقم بھی ادا کی گئی۔

ذرائع نے بتایا کہ فرقہ وارانہ کورس میں شرکت کرنے والے افراد کو رات کے اوقات میں وہاں لایاگیا جس کے بعد وہ مسلسل دس دن تک وہیں قیام پذیر رہے۔ اس موقع پر شرکاء سے ان کے موبائل فون اور رابطے کے دیگر تمام آلات لے لیے گئے تھے۔ بغیر اجازت کے باہر سے کوئی چیز لانے پر پابندی عاید تھی۔ اس موقع پر حوثی باغیوں نے فرقہ وارانہ تعلیمات پر مبنی لیکچرز کااہتمام کیا گیا۔ شرکاء کو حوثی لیڈر عبدالملک الحوثی کی ریکارڈڈ تقاریر سنائی گئیں جن میں انہیں ایران کے ولایت فقیہ کے ساتھ وفاداری اور ’جہاد‘ پر اکسایا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق فرقہ وارانہ تعلیمات کے دوران شرکاء کو کہا گیا ہے کہ عبدالملک الحوثی اللہ کا نمائندہ ہیں جب کی علی الصماد کو دستوری آئینی اختیارات حاصل ہیں۔