.

تین برس میں ایک ہی شوہر سے 4 خواتین نے خلع لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے صوبے الباحہ کی ایک عدالت کے مطابق گذشتہ تین برس کے دوران میں ایک سعودی شہری کی چار بیویوں نے یکے بعد دیگرے اپنے شوہر سے خلع لے لیا ہے۔ ان خواتین نے مختلف وقتوں میں اپنے شوہر کے برے برتاؤ کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کیا اور پھر چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے اپنے مہر کی رقم اس کو لوٹانے پر مجبور ہو گئیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ذرائع کے مطابق مذکورہ شوہر کا ذہنی توازن درست نہیں تھا۔ اس شخص کی بیویوں میں سے ایک خلع کا مقدمہ دائر کرنا چاہتی تھی کہ اس سے قبل عدلیہ کے ایک ذریعے نے خاتون کو بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے خلاف فسخِ نکاح کا دعوی دائر کر سکتی ہے۔ اس طرح خلع کے مقدمات کی طرح کو اپنا مہر واپس نہیں کرنا پڑے گا۔ فسخ نکاح میں اس امر کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے کہ خاتون کا شوہر ازدواجی معاشرت کا اہل نہیں ہے اور اس کی سابقہ بیویاں بھی خلع حاصل کر چکی ہیں۔

سعودی ایڈووکیٹ اور قانونی نکاح خواں ڈاکٹر ابراہیم الآبادی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مملکت میں بہت سی خواتین اپنے قانونی حقوق کو نظر انداز کر دیتی ہیں بالخصوص جب ازدواجی تعلق ختم کرنے کا موقع آتا ہے۔ یہ خواتین طلاق اور خلع کے سوا کچھ نہیں جانتی ہیں۔ ڈاکٹر ابراہیم کے مطابق اگر ازدواجی زندگی جاری رکھنا ممکن نہ رہے تو عورت کے پاس فسخِ نکاح کا حق بھی ہوتا ہے۔ یہ ازدواجی زندگی ختم کرنے کا ایسا قانونی حل ہے جس میں فریقین میں سے کسی کو کوئی معاوضہ ادا نہیں کرنا پڑتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ اسلامی شریعت میں بلا عوض علاحدگی کے بہت سے اسباب ہیں۔ ان میں کسی ایک فریق میں ایسا عیب ہونا جس سے نکاح کا تعلق جاری نہ رہ سکتا ہو۔ مثلا عورت یا مرد میں کوئی پیدائشی عیب ہو اور مرد حق زوجیت ادا کرنے کی قدرت نہ رکھتا ہو یا پھر فریقین کے درمیان متفقہ شرائط کی خلاف ورزی کی گئی ہو اور نکاح کے بعد ان کو پورا نہ کیا جا رہا ہو۔ مثلاً مرد کی طرف سے عورت کا نان نفقہ ادا نہ کرنا۔ اس صورت میں دوسرے فریق کو فسخِ نکاح کا حق ہوتا ہے۔ اسی طرح ذہنی بیماری مثلاً پاگل پن یا اس کے علاوہ کوئی مرض جو مطلوبہ نارمل زندگی گزارنے کی راہ میں حائل ہو۔

ڈاکٹر ابراہیم نے زور دیا کہ خواتین کو بطور بیوی کو اپنے حقوق جاننے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مختص لوگوں سے پوچھا جانا چاہیے اور بیوی کو اپنے حق کے حوالے سے خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ اکثر خواتین اب بھی شادی سے متعلق شرعی اور قانونی حقوق کے حوالے سے نابلد ہیں۔ اس کے نتیجے میں ان کے حقوق تلف ہو جاتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ "مملکت میں طلاق کی شرح شادی کی شرح سے زیادہ ہو چکی ہے۔ مملکت میں ہر سال 40 ہزار کے قریب طلاقیں ہوتی ہیں۔ اس لیے شوہر اور بیوی کو آگاہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ازدواجی زندگی کے آغاز سے قبل مخصوص کورسز کا انتظام ہونا چاہیے تا کہ دونوں افراد ساتھ زندگی گزار سکیں۔ بالخصوص جب کہ دونوں کا تعلق مختلف ماحول اور ثقافت سے ہو۔ ان کورسز کو بھی طبی معائنے کی طرح لازمی قرار دینا چاہیے"۔