شامی اپوزیشن کی غوطہ سے انخلاء کے لیے مذاکرات کی تردید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ میں روسی فوج کی موجودگی اور تعاون سے اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری جاری ہے۔ بمباری کے نتیجے میں مزید کئی شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ الغوطہ سے محفوظ انخلاء کے لیے اسد رجیم کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔

اپوزیشن گروپ ’فیلق الرحمان‘ کے ترجمان وائل علوان نے بتایا کہ جنگجوؤں کی مشرقی الغوطہ سے واپسی یا ماضی کی طرح انخلاء کے معاہدوں کی طرز پر کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ روسی اور اسدی رجیم کے جنگی طیارے مشرقی الغوطہ کی فضاء میں مسلسل پروازیں اور بمباری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزرویٹری کے مطابق اتوار کے روز اسدی فوج نے عربین اور جسرین کے مقامات پر بمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد شہری جاں بحق اور زخمی ہوگئے۔

قبل ازیں اسدی فوج نے حرستا شہر میں پیش قدمی کرتے ہوئے دوما اور حرستا شاہراہ پر کنٹرول حاصل کرلیا۔

عسکری ذرائع نے بتایا کہ حموریہ شہر میں اپوزیشن اور شامی حکومت کے درمیان جنگجوؤں کے انخلاء کے لیے بات چیت کی خبریں آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حموریہ سے عسکریت پسندوں اور عام شہریوں کو محفوظ طورپر نکلنے کے لیے بات چیت جاری ہے مگر فیلق الرحمان نامی اپوزیشن گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے شامی فوج کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی قسم کی بات چیت جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں