.

وڈیو: ایران نواز ملیشیا "الحسین بریگیڈ" الغوطہ الشرقیہ میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی دارالحکومت کے نواح میں واقع علاقے الغوطہ الشرقیہ میں ایران نواز ملیشیا "الحسین بریگیڈ" کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ علاقہ کئی ہفتوں سے شامی فوج اور روسی فورسز کی جانب سے شدید بم باری کی زد میں ہے۔

فیس بک پر مذکورہ ملیشیا کے پیچ پر دو روز قبل ایک وڈیو پوسٹ کی گئی ہے۔ وڈیو میں الغوطہ کے ذیلی علاقے "حرستا" میں الحسین بریگیڈ کے عناصر کی موجودگی دکھائی گئی ہے۔

الحسین بریگیڈ ان درجنوں ملیشیاؤں میں سے ہے جن کو ایران بشار حکومت کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے سپورٹ کر رہا ہے۔

وڈیو میں متعدد مسلح عناصر نظر آ رہے ہیں اور پس منظر میں ایک شخص یہ بتا رہا ہے کہ "ہم حرستا کے علاقے میں "البیرونی ہسپتال" کے نزدیک موجود ہیں"۔

گفتگو کرنے والے نے شام کے ریپبلکن گارڈز کی فورتھ ڈویژن کے ارکان کو مبارک باد بھی پیش کی۔ اس ملٹری ڈویژن کا سربراہ بشار الاسد کا بھائی ماہر الاسد ہے۔ شامی فوج کی یہ فورتھ ڈویژن دارالحکومت دمشق کے اطراف بالخصوص "سیدہ زینب" کے علاقے میں تمام عسکری کارروائیوں میں "الحسین بریگیڈ" کے ساتھ شریک ہے۔

البتہ ایسا نظر آتا ہے کہ بشار حکومت کا حملہ پسپا کرنے میں شامی اپوزیشن کے عناصر کی ہمت اور حوصلے نے ایرانیوں کو مجبور کر دیا کہ وہ الحسین بریگیڈ کو دمشق کے جنوب سے اس کے مشرق میں منتقل کر دیں تا کہ بشار کی فوج کی مدد کی جا سکے۔

ایران نے الحسین بریگیڈ کو سیدہ زینب کے مزار کی حفاظت کے لیے متعلقہ علاقے میں تعینات کیا۔ یہاں سے اس نے الغوطہ میں بھی اپنی عکسری کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

الحسین بریگیڈ کا سکریٹری جنرل امجد البہادلی (ابو الكرار) مارچ 2017ء میں شام میں مارا گیا جب کہ بعض ذرائع کے مطابق اس کی موت دماغ کی رگ پھٹ جانے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ الحسین بریگیڈ میں ایرانی، عراقی، افغانی اور بعض شامیوں کے علاوہ دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے ولاے جنگجو بھی شامل ہیں۔