.

پیدائشی آنکھوں سے محروم بچوں کی دلخراش داستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصرمیں پیدائشی طورپر آنکھوں سے محروم بچوں کے دلخراش داستان نے پتھر دل بھی موم کردیے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصرمیں ایک خاندان کے دو بچے پیدائشی طورپر سرے سے آنکھوں سے محروم ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کی ناک بھی منہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھوں سے محرومی ان کے والدین کی قرابت داری ہوسکتی ہے۔

آنکھوں کی نعمت سے محروم بچوں کا تعلق شمالی مصر کے علقے کفر الشیخ سے ہے۔ آنکھوں سے محروم ادھم اورعطا صبحی رمضان آپس میں بھائی ہیں۔

آنکھوں سے محروم بچوں کی والدہ رندہ محمد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس کے بڑے بیٹے کی عمر سات اور چھوٹے کی چار سال ہے۔ دونوں پیدائشی آنکھوں سے محروم ہیں اور دونوں کی ناک ان کے منہ کےساتھ جڑی ہوئی ہے۔ تاہم ان کی ناک کواوپر والے ہونٹ سےسرجری کی مدد سے الگ کیا گیا ہے۔

آنکھوں سے محروم بچوں کی ماں نے کہا کہ وہ بچوں کو لے کرالمنصورہ شہر کے ایک بڑے ڈاکٹر کے پاس بھی گئیں تاکہ بچوں کی بینائی کی کوئی صورت معلوم کی جاسکے تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک پیچیدہ عمل ہے اور اس پر غیرمعمولی اخراجات ہوں گے۔ والدین بچوں کے علاج کے لیے مالی وسائل نہیں رکھتے جس کے باعث ان کا علاج ممکن نہیں ہوسکا۔

رندہ کا کہنا تھا کہ بچوں کوصرف آنکھوں کی محرومی کا مسئلہ ہے،اس کےسوا باقی اور وہ فطری انداز میں بولتے، سنتے،سمجھتے اور سیکھتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بچوں کی اس انوکھی بیماری کے پیچھے قریبی رشتہ داروں میں شادی کا محرک بھی شامل ہے۔ بعض موروثی عوامل بچوں میں کسی نا کسی شکل میں معذوری کا موجب بنتے ہیں۔