ایران نےیمن کے اندر بیلسٹک میزائلوں کی تیاری شروع کردی

حوثیوں کی تہران میں حزب اللہ کے عسکری ماہرین کی زیرنگرانی ٹریننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی طاقت ور فوج پاسداران انقلاب کے ایک ذمہ دار اور باخبر ذریعے نے کہا ہے کہ تہران سے یمن تک بیلسٹک میزائلوں کی اسمگلنگ میں سنگین مشکلات درپیش ہیں۔ ایران کو خدشہ ہے کہ تہران سے صنعاء تک بیلسٹک میزائلوں کی سپلائی کے باعث ایران پر عالمی اقتصادی پابندیاں عاید کی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایرانی اسلحہ سازوں نے شام اور لبنان کے بعد یمن کے اندر ہی بیلسٹک میزائلوں کی تیاری شروع کردی ہے۔

کویتی اخبار ’الجریدہ‘ نے ایرانی ذرائع کےحوالے سے خبر دی ہے کہ ایران اور حزب اللہ کے عسکری ماہرین یمن کے حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزائلوں کی تیاری کی باقاعدہ تربیت دے رہے ہیں۔ ایران حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزائلوں کے لیے ٹیکنالوجی اور خام مال مہیا کررہا ہے۔ انہیں ٹھوس ایندھن کی فراہمی کےساتھ دیگر ضروری اشیا مہیا کی جا رہی ہیں۔ حوثیوں کی ایک انجینیرنگ ٹیم تہران میں موجود ہے جسے ایرانی فوج کی زیرنگرانی لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ماہرین بھی تربیت فراہم کررہے ہیں۔

اخباری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حوثی باغیوں نے بلیک مارکیٹ سے بیلسٹک میزائلوں کے بڑی تعداد میں انجن خرید رکھے ہیں۔ ان میں سے بیشتر روسی اور شمالی کوریا کےتیار کردہ ہیں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کی بیرون ملک سرگرم القدس ملیشیا نے حوثیوں کی طرف سے بیلسٹک میزائلوں کے انجنوں کی قیمت ادا کی ہے اور انہیں یمن لانے میں باغیوں کو بھرپور مدد فراہم کررہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثیوں کے لیے 12 میٹر لمبے ہتھیاروں کا ایران سے حصول کافی مشکل ہے۔ عرب اتحادی فوج اور یمنی فوج نے یمن کی ناکہ بندی کررکھی ہے جس کے باعث حوثیوں کو بیرون ملک سے اسلحہ منگوانے میں کافی مشکلات درپیش ہیں۔ ایسے میں حوثی باغیوں کے حامی ممالک بالخصوص ایران انہیں میزائل سازی کے لیے معدنیات اور دیگر خام مال مہیا کررہا ہے اور اپنی زیرنگرانی یمن میں میزائل تیار کیے جاتےہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ یمن میں تیار ہونے والے بیلسٹک میزائل ایران میں تیار کیے جانے والے میزائلوں سے ساخت ، معیار اور طاقت میں مختلف ہیں۔ یہ میزائل کم فاصلے تک مارکرنے والے راکٹوں کی طرز پر تیارکیے جا رہے ہیں تاکہ انہیں یمن کے اندر سرکاری فوج اور حکومتی تنصیبات کے ساتھ سرحد پر سعودی عرب پر پھینکا جاسکے۔

خیال رہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب اور یمن کے اندر بیلسٹک میزائل حملوں کا معاملہ عالمی سطح پر زیربحث ہے۔ دو ہفتے قبل یمن میں حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزایلوں کی ترسیل روکنے کے مطالبے پر مبنی ایک قرارداد برطانیہ کی طرف سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی تھی مگر روس نے اس قرارداد کو ایران کے حق میں ویٹو کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں