ترکی کی فوج کا شام میں عفرین کے گھیراؤ کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کی فوج نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی شام میں واقع قصبے عفرین کا گھیراؤ کر لیا ہے۔ فوج کے مطابق اس کارروائی میں شامی اپوزیشن کے جنگجو بھی شریک ہیں۔

ادھر کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا کہنا ہے کہ ترکی عفرین آنے والے تمام راستوں کو بم باری کا نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم کرد یونٹس نے عفرین کے گھیراؤ کے حوالے سے ترکی کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ محض انقرہ کا "پروپیدگنڈہ" ہے۔

دوسری جانب ترک چینل NTV اور دیگر مقامی میڈیا کے مطابق ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کا کہنا ہے کہ ترکی اور امریکا شمالی شام کے قصبے منبج سے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے انخلاء کی نگرانی کریں گے۔

انہوں نے ماسکو روانہ ہونے کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ ترکی اور امریکا 19 مارچ کو ہونے والی بات چیت کے دوران منبج کے حوالے سے منصوبہ وضع کریں گے تاہم اس میں ناکامی کی صورت میں ترکی کی فوج فوجی آپریشن کرے گی۔ اوگلو کے مزید کہا کہ انقرہ اُن ہتھیاروں کے واپس لیے جانے کی کارروائی پر کڑی نظر رکھے گا جو امریکا نے کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو فراہم کیے۔ واشنگٹن کے اس اقدام کے نتیجے میں نیٹو اتحاد میں شریک دونوں حلیف ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو گئے۔

ترکی کی حکومت کے سرکاری ترجمان بکر بوزداج نے پیر کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک عنقریب شام کے قصبے عفرین کو مسلح عناصر سے پاک کر دے گا۔ بوزداج نے بتایا کہ "ہم نے عفرین میں 1102 مربع کلو میٹر کا رقبہ دہشت گردوں سے کلیئر کرا لیا ہے اور جلد ہی قصبے کے مرکز میں پہنچ کر اسے بھی کلیئر کرا لیں گے"۔

پیر کے روز ترکی افواج کے کرد اکثریت کے قصبے عفرین کے بیرونی کناروں پر پہنچنے کے بعد مقامی آبادی کے سیکڑوں شہریوں نے راہ فرار اختیار کر لی۔ انسانی حقوق کی شامی رصد گاہ المرصد کے مطابق اس وقت درجنوں گاڑیاں اس بات کی منتظر ہیں کہ انہیں شامی حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں جانے کی اجازت دی جائے۔

ترکی کی فوج اور اس کے ہمنوا شامی گروپ 20 جنوری سے عفرین میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف کارروائی میں مصروف ہیں۔ ترکی کی فوج نے عفرین کے 60 فی صد حصّے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

کرد ذمّے داران کے مطابق عفرین میں "الم ناک انسانی صورت حال" کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں