شامی فوج کے حملے جاری ،مشرقی الغوطہ سے بیماروں اور زخمیوں کے انخلا کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ کے بڑے شہر دوما سے بیمار اور زخمی شہروں کے انخلا کا آغاز ہوگیا ہے جبکہ شامی فوج نے باغیوں کے مبینہ ٹھکانوں اور شہری آبادیوں پر تباہ کن حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ منگل کے روز قریباً ڈیڑھ سو افراد کو مشرقی الغوطہ سے نکالا گیا ہے۔ ان میں شیر بچوں کو اٹھائے خواتین اور بیساکھیوں کے سہارے چلنے والے مرد حضرات بھی شامل تھے۔ بعض کو ویل چئیر پر الوافدین کراسنگ تک لایا گیا تھا اور وہاں سے بسوں پر سوار کرایا گیا۔

رصدگاہ کی اطلاع کے مطابق اس دوران میں مشرقی الغوطہ میں واقع مختلف قصبوں اور دیہات پر شامی فوج کے طیاروں کے فضائی حملے جاری رہے ہیں۔شامی حکومت نے محاصرہ زدہ مشرقی الغوطہ میں لڑنے والے باغی گروپوں کو محفوظ انخلا کی پیش کش کی ہے لیکن انھوں نے اس کو ٹھکرا دیا ہے اور تادم مرگ لڑائی جاری رکھنے کا ا علان کیا ہے۔تاہم اس کا یہ حربہ دمشق کے نواح میں واقع قصبے القدم میں لڑنے والے باغیوں پر کامیاب رہا ہے اور وہ انخلا پر آمادہ ہوگئے ہیں۔

لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے زیر انتظام خبری ذریعے ملٹری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ الجندالشام سے تعلق رکھنے والے کم سے کم تین سو جنگجو ؤں اور ان کے خاندانوں کو بسوں کے ذریعے باغیوں کے زیر قبضہ شمال مغربی صوبے ادلب میں منتقل کردیا گیا ہے۔

شامی رصدگاہ نے بھی اس اطلاع کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹے میں سیکڑوں جنگجو اور ان کے خاندان القدم سے بسوں پر سوار ہو کر چلے گئے ہیں۔القدم کے ایک جانب اسد حکومت کی عمل داری والا علاقہ ہے اور دوسری جانب داعش کے زیر قبضہ علاقہ ہے۔اس نے علاقے میں داعش کے جنگجوؤں اور سرکاری فورسز کے درمیان لڑائی کی بھی اطلاع دی ہے۔

مشرقی الغوطہ میں شامی فوج کے خلاف برسرپیکار ایک بڑے باغی گروپ جیش الاسلام کے سیاسی عہدے دار یاسر دلوان نے کہا ہے کہ دوما سے مریضوں کے پہلے گروپ کو نکالا گیا ہے ۔ان کے نام اقوام متحدہ کی مرتب کردہ قریباً ایک ہزار افراد کی فہرست میں شامل تھے اور انھیں فوری طور پر ہنگامی امداد کی ضرورت ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے دوما سے پہلے گروپ کی شکل میں آنے والے 35 افراد کی فوٹیج بھی نشر کی ہے۔انھیں دمشق کے نواح میں ایک شیلٹر میں منتقل کیا جا رہا تھا۔ شامی ٹی وی نے بعض ایسے افراد کے انٹرویوز کیے ہیں جن کا کہنا تھا کہ انھیں باغیوں نے روک رکھا تھا۔ شام اور روس نے باغیوں پر علاقے کے محصور مکینوں کو انسانی ڈھال کے طور استعمال کرنے کا الزام عاید کیا ہے جبکہ باغیوں نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں