شام پر امریکی بم باری کی صورت میں روسی فوج کی جوابی کارروائی کی دھمکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی میڈیا ایجنسی نے منگل کے روز بتایا ہے کہ روسی فوج کا کہنا ہے کہ وہ شام پر کسی بھی امریکی حملے کا جواب دے گی۔ فوج نے باور کرایا ہے کہ اس نوعیت کے حملے میں استعمال ہونے والے میزائلوں اور لانچنگ پیڈز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

مذکورہ ایجنسی نے روسی فوج کے چیف آف اسٹاف کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر شام میں روسی فوجیوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا تو ماسکو جوابی کارروائی کرے گا۔

امریکا نے کافی عرصے سے ایک نئی قراد داد کے مسوّدے میں سلامتی کونسل سے مطالبہ کر رکھا ہے کہ دمشق اور اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقے الغوطہ الشرقیہ میں فوجی طور پر فائر بندی یقینی بنائی جائے۔ سلامتی کونسل کے 15 ارکان میں تقسیم کیے جانے والے قرار داد کے مسودے میں 30 روز کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جرنل آنتونیو گوتیریس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ "فائر بندی پر عمل درامد کی نگرانی کے واسطے تجاویز کی تیاری میں جلدی کی جائے"۔ متن میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ الغوطہ الشرقیہ میں انسانی امداد کے قافلوں کو بنا کسی رکاوٹ کے محفوظ اور مستقل طور پر داخل ہونے دیا جائے اور وہاں سے طبی بنیادوں پر مریضوں اور زخمیوں کے انخلاء کو یقینی بنایا جائے۔

ابھی تک واضح نہیں کہ قرارداد کو رائے شماری کے لیے کب پیش کیا جائے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکی خاتون سفیر نِکی ہیلی نے سلامتی کونسل کے سامنے کہا ہے کہ دو ہفتے قبل کونسل کی جانب سے منظور کی جانے والی فائر بندی روس کی معاونت سے الغوطہ پر شامی حکومت کی چڑھائی کے ساتھ ہی "ناکام" ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم نے نئی قرارداد کا فارمولا تیار کیا ہے جس کے حوالے سے کسی طرح چکمہ دینے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ حرکت میں آیا جائے"۔

ہیلی نے خبردار کیا کہ جب سلامتی کونسل شام کے حوالے سے متحرک ہونے میں ناکام ہو جائے گی تو پھر مجبورا بعض ممالک کو خود سے حرکت میں آنا پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "امریکا اب بھی حرکت میں آنے کے لیے تیار ہے"۔

نکی ہیلی نے روس پر الزام عائد کیا کہ اس نے فائر بندی کے حق میں ووٹ دیا لیکن فوری طور پر اس فائر بندی کو نظر انداز کر دیا۔

امریکی سفیر نے متنبہ کرتے ہوئے کہا اگر ان کا ملک مجبور ہوا تو وہ کسی بھی ایسی ریاست بالخصوص شام کی غیر قانونی حکومت کے خلاف حرکت میں آنے کے لیے تیار ہے جو کیمیائی حملوں اور غیر انسانی کارستانیوں کے ذریعے اپنی مرضی مسلط کرنے پر تُلی ہوئی ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں