.

ایران میں ’وائیٹ وینز ڈے‘، سفید اسکارف لہراتی خواتین کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں گذشتہ کچھ عرصے سے ریاستی جبر کے خلاف خواتین ہر بدھ کو اپنے حقوق اور جبری حجاب کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بدھ کا دن آتے ہی ایران کے مختلف شہروں میں خواتین گھروں سے نکل کر اپنے سروں سے اسکارف اتار کر بطور احتجاج انہیں لاٹھیوں پر لہراتی ہیں۔

دوسری جانب ایران میں سرکاری سطح پر خواتین پر نقاب مسلط کرنے کی پالیسی کے تحت نقاب اتار نے والی لڑکیوں کو پابند سلاسل کیا جا رہا ہے۔ اس وقت بھی ایرانی جیلوں میں 35 دو شیزاؤں کو اسکار اتار کر لہرانے کی پاداش میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔

ایرانی سماجی کارکن مسیح علی نژاد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2014ء کے بعد حجاب اتارنے کی پاداش میں 34 لاکھ خواتین کو جرمانے کیے گئے۔

ایران میں مذہبی بنیادوں پر قائم حکومت کی جانب سے ریاستی جبر کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے مگر اب خواتین اپنے حقوق کے لیے آہستہ آہستہ بیدار ہو رہی ہیں۔ ایرانی خواتین اور ریاستی نظام کے درمیان کشمکش کا ایک پہلو خواتین کا لباس بھی ہے۔ خواتین نے کچھ عرصہ پیشتر لازمی حجاب کے خلاف ’سفید بدھ‘ یا وائیٹ وینز ڈے کی مہم شروع کی تھی۔ مہم دراصل چار سال قبل خواتین کی طرف سے شروع کی گئی My stealthy movement مہم کا تسلسل ہے۔ سنہ 2009ء میں مسیح علی نژاد نے اس مہم کا آغاز کیا۔ اب وہ نیویارک میں مقیم ہیں مگر وہ اس مہم کو لندن اور دوسرے شہروں سے بھی چلا رہی ہیں۔

’فیس بک پرحجاب کی تصویر‘

مسیح علی نژاد چار سال قبل لندن میں مقیم تھیں۔ اس نے اپنا سفید اسکارف اتارا اور اسے ایک لاٹھی پر لہرا کر تصویر بنائی۔ اس کے بعد وہ تصویر سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ کر دی۔ وہاں سے ایران میں خواتین پر جبری لباس مسلط کرنے کی پالیسی کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس مہم کو بال و پر لگنا شروع ہو گئے۔ ریاستی جبر اور گھٹن کے ماحول سے تنگ خواتین نے فیس بک پر اسکارف کے بغیر تصاویر پوسٹ کرنا شروع کر دیں۔ آج یہ مہم ایک تحریک بن چکی ہے۔ حکومتی جبر وستم کے علی الرغم خواتین پوری ہمت اور عزم کے ساتھ ایرانی سرکار کی پالیسی کو مسترد کر رہی ہیں۔

ریاست کا خوف

گزشتہ بدھ کو تہران کے پراسیکیوٹر جنرل جعفر دولت آبادی نے کہا کہ عدالت نے حجاب اتارنے والی ایک خاتون کو دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔ دولت آبای کا کہنا تھا کہ ملزمہ جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی پر کھلے عام اسکارف لہرا کر فساد پھیلانے کی مرتکب ہوئی ہے۔

گذشتہ جمعرات کو ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کہا کہ ایران کے دشمن ملک میں حجاب مخالف تحریک کو فنڈ فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران دشمن قوتیں ایرانی بیٹیوں کو گمراہ کرتے ہوئے انہیں ملک میں فساد پھیلانے کی راہ پر چلا رہی ہیں۔

سپریم لیڈر کا یہ بیان اس کے اندر چھپے اس خوف کا بھی اظہار ہے۔ ایران عوامی احتجاج سے سخت خائف ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مسیح علی نژاد کا کہنا تھا خواتین کو ڈرانے دھمکانے کی کوئی چال کار گر نہیں ہوسکتی۔ جری اور بہادر خواتین ریاست کی طرف سے کسی غیرقانونی جبر سے خائف نہیں تاہم حکومت کو خواتین کی بیداری کی تحریک سے خوف زدہ ہے۔