اسرائیل، بھارتی جوتے فٹ بال ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے نرالے اسباب!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

حال ہی میں برطانوی حکومت نے سنہ 2018ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو اس بائیکاٹ نے ماضی میں فٹ بال کپ کے بائیکاٹ کے بعض واقعات ایک بارپھر تازہ ہوگئے۔

فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کے بائیکات کی روایت جنوبی امریکا کے ملک یورگوائے نےسنہ 1938ء میں ڈالی تھی۔ بعد ازاں اسرائیل کی وجہ سے بھی بعض ملکوں نے عالمی فٹ بال کپ میں شرکت سے انکار کیا۔ ایک بار بھارت نے فٹ کپ کے دوران گراؤنڈ میں جوتے لے جانے سے روکنے پر بائیکاٹ کیا جو کہ عالمی کپ کے بائیکاٹ کا حیران کن سبب قرار دیا جاتا ہے۔

سنہ 2018ء کے فٹ بال ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کرنے والوں میں صرف برطانیہ نہیں بلکہ اس فہرست میں پولینڈ اور آسٹریلیا کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔

سنہ 1938ء میں اٹلی کی میزبانی میں ہونے والے عالمی فٹ بال کپ کے کھیلوں کا سب سے پہلے یورگوائے نے بائیکاٹ کیا۔ اس بائیکاٹ کی وجہ یہ بتائی گئی کہ اس کھیل کے پہلے مراحل میں یورپی ٹیمیں یوروگوائے کے دارالحکومت مونٹیویڈیو نہیں آئی تھیں۔

یورو گوائے کی ٹیم نے کی جانب سے بائیکاٹ کی وجہ انگلینڈ، آئرلینڈ، ویلز اور اسکاٹ لینڈ کی ٹیموں نے بھی اطالوی میزبانی میں ہونے والے کپ میں عدم شرکت بتائی گئی۔ ان ٹیموں کا کہنا تھا کہ ان کے مقامی کھیلوں کے مقابلے عالمی کپ سے زیادہ بہتر ہیں۔ یہاں تک کہ انگلش فٹ بال یونین کے رکن چارلس سوٹکلیف نے عالمی کپ کو ’مزاح‘ قرار دیا تھا۔

یورگوائے کے بعد اس فہرست میں ارجنٹائن کا نام بھی شامل ہوا۔ اس وقت تک یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ عالمی کپ کے دوران یورپی ٹیمیں اور لاطینی امریکا کی ٹیمیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی۔ فرانس کی میزبانی میں ہونے والے اس مقابلے میں ارجنٹائن نے عدم شرکت کا فیصلہ کیا۔

سنہ 1950ء میں بھارت نے عالمی فٹ بال چیمپیئن شپ کا بائیکاٹ کیا۔ یہ بائیکاٹ انوکھا تھا۔ بی بی سی اور بعض دوسرے ذرائع ابلاغ کے مطابق بین الاقوامی فٹ بال فیڈریشن نے بھارتی کھلاڑیوں کے لیے کھیل کے جوتے استعمال کرنے سے روک دیا تھا۔ سنہ 1948ء میں لندن میں ہونے والے کھیلوں میں ایسا واقعاہ پیش آچکا تھا۔ جب بھارتی کھلاڑیوں کو جوتے پہن کرآنے کی اجازت دینے سے منع کیا گیا تو بھارت نے کھیلوں کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

اسی دوران اسکاٹ لینڈ نے بھی برطانوی جزیرہ ہونے کی بناء پر انگلش ٹیم کے مقابلے میں شکست کے بعد عالمی کپ کا بائیکاٹ کردیا تھا۔

سنہ 1958ء میں عالمی فٹ بال کپ کے دوران اپنی ٹیموں کے اسرائیلی ٹیم کے ساتھ متوقع مقابلوں کے خوف سے مصر، انڈونیشی، سوڈان اور ایران نے بائیکاٹ کردیا۔

سنہ 1966ء میں انگلینڈ میں ہونے والے عالمی فٹ بال کپ کے موقع پر افریقی یونین کی جانب سے بائیکاٹ کیا گیا جب کہ اسی موقع پر فیفا نے براعظم ایشیا اورافریقا کو رکنیت دینے کا بھی اعلان کیا۔

سنہ 1973ء میں چلی میں جنرل آوگسٹو پنوشے کی جانب سے صدر سلفاڈور ایلینڈی کے خلاف انقلاب کے بعد سوویت یونین نے عالمی فٹ بال کپ کا بائیکاٹ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں