القاعدہ تنظیم کی خواتین کی شادیوں سے متعلق اسرار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
8 منٹس read

سیاسی اسلام کا پرچار کرنے والوں اور شدت پسند بنیاد پرست جماعتوں کی سرکردہ شخصیات کی تقریروں اور تحریروں میں جہاں ایک طرف عورت کی ناموس کی حفاظت اور مرد عورتوں کے اختلاط کو سختی سے رد کیا جاتا ہے۔ وہاں دوسری طرف بیداری تحریک کی سرگرمیوں کے لیے عورت سیاسی یا عسکری سطح پر ان نظریاتی افکار کے حامل عناصر کا کارآمد ہتھیار اور ذریعہ رہی ہے۔

شدت پسند تنظیموں مثلا الاخوان المسلمین ، القاعدہ اور داعش میں عورتوں کو بھرتی کرنے کا بنیادی مقصد جنگجوؤں کی شادیوں کے ذریعے انتہا پسند نسل کا حصول اور اپنی سوچ کے حامل افراد کی تعداد میں اضافہ ہے۔

علاوہ ازیں تنظیموں کے بانیوں اور سرغنوں نے اپنے اہم ارکان کے ساتھ دامادی کا تعلق قائم کیا۔ الاخوان المسلمین میں بین الاقوامی رابطہ کار شخصیت تنظیم کے بانی کی بیٹی وفاء البنا کے ساتھ شادی کے ذریعے حسن البنا کی دامادی کا شرف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ اسی طرح القاعدہ کے بانی اور سابق سربراہ اسامہ بن لادن نے تنظیم کے رہ نماؤں اور کمانڈروں ابو حفص المصری ، ابو محمد المصری اور سیف العدل کو اپنا داماد بنایا۔

اس کے علاوہ تنظیموں کے اندر بھی خواتین کے ساتھ تنظیمی رہ نماؤں کی شادیوں کے کئی واقعات ملتے ہیں۔ ایک چیچن خاتون جس کو القاعدہ کی کیمرہ مین قرار دیا گیا۔ وہ سعودی عرب میں القاعدہ کے ایک کمانڈر کی بیوہ تھی۔ شوہر کی ہلاکت کے بعد جلد ہی اسے تنظیم کے رہ نماؤں کی جانب سے شادی کی پیش کشیں موصول ہوئیں۔ ان رہ نماؤں میں نمایاں ترین عبدالعزيز المقرن اور صالح العوفی تھے۔ اسی طرح مراکشی نوجوان خاتون اسلام ميطاط جو داعش تنظیم کے ایک افغان نژاد جرمن کمانڈر کی بیوہ تھی۔ اس نے یکے بعد دیگرے اپنے شوہر کے دو ساتھیوں سے شادی کی اور ان کے بچوں کی ماں بھی بنی۔

علاوہ ازیں العربیہ ڈاٹ نیٹ کو القاعدہ تنظیم کے اندر ایک خاتون سے متعلق عجیب ترین واقعے کے بارے میں معلوم ہوا۔ اس واقعے سے شدت پسند تنظیموں میں اخلاقی پستی کا واضح طور پر اندازہ ہوتا ہے۔

اس کہانی کا تعلق ایک سعودی خاتون "س ب" سے ہے جس نے 3 بچوں کی پیدائش کے بعد مالی معاوضے کے بدلے اپنے سعودی شوہر سے خلع لے لی تا کہ القاعدہ تنظیم کے ایک رکن سے شادی کر لے۔ تاہم بعد ازاں دوسرے شوہر کی بے وفائی کے انکشاف کے بعد مذکورہ خاتون نے اس سے بھی طلاق کا مطالبہ کر دیا۔ اختلاف بڑھ جانے کے بعد عورت کے دوسرے شوہر نے شدت پسند سوچ کے حامل ایک افغان شخص "طبيب جدرانی" کو اپنے اور بیوی کے درمیان صلح کے لیے ثالثی بنا دیا جو کہ نابینا اور ایک ٹانگ سے محروم تھا۔ تاہم اس ثالثی نے سعودی خاتون کو اس بات پر قائل کیا کہ اس کا دوسرا شوہر بدستور بے وفائی اور ازدواجی خیانت کا مرتکب ہے تا کہ وہ اپنے شوہر سے طلاق حاصل کر لے۔ اس طرح طلاق کے بعد مذکورہ افغانی نے سعودی خاتون سے رابطے میں رہ کر اس کو افغانستان کے سفر پر مجبور کر دیا۔

اس افغانی نے بنا کسی شرط اور ولی کی آمادگی کے بغیر خاتون کو شادی کی پیش کش کر دی۔ یہ خاتون القاعدہ کے ایک رکن کے ساتھ جو گوانتانامو سے چھوٹ کر آیا تھا سعودی عرب سے ایران بذریعہ ہوائی جہاز پہنچی۔ پھر وہاں سے کسی طرح پاکسان میں وزیرستان کے علاقے میں پہنچ گئی جہاں اس کی ملاقات ایک بار پھر افغان شہری طبیب جدرانی سے ہوئی۔ جدرانی کے ساتھ 6.5 برس گزارنے اور اس دوران ایک بچے کو جنم دینے کے بعد یہ سعودی خاتون ایک افغان آشنا محمد شمشیر کے ساتھ فرار ہو گئی۔ اس دوران وہ کئی مقامات پر منتقل ہوئی اور بالآخر جدرانی سے فسخ نکاح کا فتوی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بعد ازاں اس نے شمشیر سے شادی کر لی۔ شمشیر نے اس سعودی خاتون کے مملکت پہنچنے کے لیے جعلی دستاویزات تیار کروائیں۔ البتہ حج ویزے پر مملکت پہنچنے پر سعودی سکیورٹی حکام نے اس کو حراست میں لے لیا۔

ایبٹ آباد آپریشن کے دوران اسامہ کے کمپاؤنڈ سے حاصل دستاویزات سے القاعدہ تنظیم کے اپنے ارکان کی بیویوں اور ان کے بچوں سے متعلق مالی اور ازدواجی امور کا بھی انکشاف ہوا۔ سال 2001ء سے قبل ہر نئے دولہا کو شادی کے انتظامات کے واسطے 1000 ڈالر ملتے تھے۔ تاہم پھر یہ رقم 700 ڈالر ہوئی اور پھر کم ہو کر 500 ڈالر تک پہنچ گئی۔ یہاں تک کہ شادی کے لیے اس مالی معاونت کی رقم کا سلسلہ ختم کرنے کی تجویز بھی سامنے آئی۔

تنظیم کے اندر شادی کے معاملات کو انتظامی شکل دینے کے لیے القاعدہ کے ایک معروف کمانڈر عطیۃ اللہ اللیبی نے بعض تجاویز پیش کیں :

ایک سال میں مالی کفالت اور شادی کے اخراجات کی رقم حاصل کرنے والوں کی تعداد متعین کی جائے۔ ابتدائی طور پر یہ تعداد 10 افراد تک محدود ہو۔
اس سلسلے میں ترجیح سنیارٹی کو ، بیوہ سے شادی اور یتیم کی کفالت کرنے کے خواہش مند کو دی جائے۔
شرائط میں ایک سے زیادہ افراد کے مساوی ہونے پر بڑی عمر والے کو چھوٹی عمر والے پر ترجیح دی جائے۔ عمر برابر ہونے کی صورت میں قرعہ اندازی کی جائے۔

بنیاد پرستوں اور بنیاد پرست جماعتوں کی جانب سے ایک طرف تو عورت کو اُس جہاد کے لیے اکسایا جاتا ہے جس کو یہ "شرعی جہاد" قرار دیتے ہیں۔ ساتھ ہی دوسری طرف عورت کو تحقیر کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔

اس حوالے سے جہادی حلقوں کی ایک معروف شخصیت ابو محمد المقدسی نے نوجوانوں کو جہاد پر قائل کرتے ہوئے کہا کہ "اگر تمہیں اپنی حسین بیوی کا فراق نکلنے سے روک رہا ہے! تو جان لو کہ اگر وہ زمانے کی حسین ترین عورت بھی ہے تو اس کی ابتدا تو بہرحال گندے نطفے کا ایک قطرہ ہی تھا ؟ ! اور اس کا انجام ایک بدبودار اور متعفن لاشہ ؟! اس کی ناپاکی تمہیں تعلق قائم کرنے سے روکتی ہے اور تمہارے حوالے سے اس کی نافرمانی اس کی فرماں برداری سے زیادہ ہے۔ یہ ٹیڑھی پسلی سے بنائی گئی ہے۔

عجیب بات ہے کہ ایسی دنیاوی عورت تمہیں اس کے پاس جانے سے روک دیتی ہے جس کو نور سے بنایا گیا اور جو محلات میں پروان چڑھی۔ اللہ تعالی شہید کا لہو خشک نہیں ہونے دیتا کہ اس کی ملاقات حور عین سے ہو جاتی ہے۔ جو حسین ہے ، کنواری ہے ، گویا کہ زمرد اور یاقوت سے بنی ہے۔ اس کو پہلے کسی انسان یا جن نے نہیں چُھوا۔ کوئی عاقل شخص اس کے بارے میں سُن کر بھی گھر میں بیٹھا رہ سکتا ہے !!!"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں