شام میں انقلابی تحریک کا 8 واں سال شروع ، تحریک کا پہلا شہید کون تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے مطالبے کے لیے شروع ہونے والی انقلابی تحریک کے پورے سات برس مکمل ہونے پر شام کی جنگ میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 5 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ شام میں انسانی حقوق کی رصدگاہ المرصد کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 3.5 لاکھ کی شناخت ہو چکی ہے جب کہ بقیہ مقتولین کے نام نہیں جانے جا سکے۔

المرصد نے کہا ہے کہ سات برسوں میں 1.06 لاکھ سے زیادہ شہری جاں بحق ہوئے جب کہ شامی فوج اور اس کی ہمنوا شامی اور غیر ملکی ملیشیاؤں سے تعلق رکھنے والے 1.22 لاکھ ارکان مارے گئے۔

المرصد کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شامی مسلح گروپوں اور سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کے 60 ہزار سے زیادہ ارکان مارے گئے جب کہ فتح الشام ، داعش اور دیگر شدت پسند گروپوں کے 63 ہزار ارکان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

شام میں عوامی انقلابی تحریک آٹھویں برس میں داخل ہو چکی ہے۔ بعض کے نزدیک اس تحریک کا آغاز 15 مارچ 2011ء کو ہوا تھا جب کہ بعض دیگر حلقوں کا کہنا ہے کہ انقلاب کی چنگاری 18 مارچ کو بھڑکی جب درعا صوبے میں شامی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے انقلابی تحریک کا پہلا شامی شہری محمود قطیش الجوابرہ جاں بحق ہوا۔

شامی سکیورٹی فورسز نے درعا صوبے میں مسجد العمری سے شروع ہونے والے عوامی مظاہرے پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں الجوابرہ کی گردن میں گولی لگی۔ الجوابرہ کے فورا بعد ہی تحریک کے دوسرے رکن حسام عبدالوالی عیاش نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ وہ اس گروپ میں شامل تھا جس نے الجوابرہ کو بچانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد دو مزید شہری ایہم الحریری اور مؤمن المسالمہ جاں بحق ہوئے۔ الجوابرہ اور اس کے تین مزید ساتھیوں کے جاں بحق ہونے کے بعد تمام عالمی نیوز ایجنسیوں پر یہ خبر سرفہرست آ گئی کہ "شام کے صوبے درعا میں مظاہرے کے دوران 4 افراد ہلاک"۔

شام میں انقلابی تحریک کے لیے سب سے پہلے اپنا لہو پیش کرنے والا محمود قطيش الجوابرہ 1987ء میں درعا صوبے میں پیدا ہوا۔ وہ فٹبال کے کھیل اور اپنے بچپن سے جوانی تک کے دوستوں کا دیوانہ تھا۔ الجوابرہ کی عمر ایک ماہ سے بھی کم تھی تو باپ کا سایہ سر پر سے اٹھ گیا۔ وہ اپنے شہر میں ہی پلا بڑھا اور جوان ہو کر ایک فٹبال کلب کا پروفیشنل کھلاڑی بن گیا۔

الجوابرہ کو جاننے والے لوگ اس کی بہت سی صفات کے قائل ہیں جن میں بہادری ، سنجیدگی اور شرافت شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں