.

ہٹلر کا نام نوبل ایوارڈ کے لیے کیوں تجویز کیا گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امن کا نوبل انعام دنیا بھر میں امن کے لیے گراں بہا خدمات انجام دینے کے صلے میں شخصیات اور اداروں کو دیا جاتا ہے۔

نوبل انعام دیے جانے کے حوالے سے نوبل کمیٹی کو تنقید کا بھی سامنا رہتا ہے کیونکہ بعض ایسی شخصیات کو بھی نوبل انعام کا حق دار ٹھہرایا گیا جن پر انسانی حقوق کی پامالیوں کا الزام عاید کیا جاتا رہا ہے۔

متنازع شخصیات کو نوبل انعام دینے کے حوالے سے ایک تنازع سابق جرمن ڈکٹیٹر اڈولف ہٹلر کی وجہ سے بھی پیدا ہوا۔ ہٹلراور نوبل انعام کے حوالے سے بحث سنہ 1935ء میں اس وقت شروع ہوئی جب کمیٹی نے جرمن اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے صحافی کارل اوسیٹزکی کو نوبل انعام دینے کا اعلان کیا۔ اویٹزکی کو یہ انعام اس لیے دیا گیا کہ انہوں نے جرمنی کو دوبارہ مسلح کرنے کے ہٹلرکے پروگرام کو بے نقاب کر دیا تھا۔ اس پر ہٹلر نے جرمنی کی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کو نوبیل انعام دینے پر پابندی کے احکامات جاری کیے تھے۔

سنہ 1939ء میں سویڈش نوبل کمیٹی نے حیران کن طورپر ہٹلر کا نام امن انعام کے حق دار افراد کی فہرست میں شامل کیا۔ جب یہ خبر منظرعام پرآئی تو سوڈش رکن پارلیمان اریک برانڈٹ نے کمیٹی کو ایک مکتوب لکھا جس میں انہوں نے ہٹلر کا نام نکالنے کا مطالبہ کیا۔ یوں سنہ 1938ء کا سالانہ نوبل انعام ہٹلر کو نہ دیا جا سکا تاہم اس سے اگلے سال کمیٹی نے ایک بار پھر ہٹلر کو نوبل انعام کے لیے تجویز کیا۔ اریک برانڈٹ نے دوبارہ مکتوب لکھا اور ہٹلر کا نام نوبل انعام کی فہرست سے نکوا دیا۔ ستمبر 1939ء میں دوسری عالمی جنگ چھڑ گئی اور سنہ 1944ء تک نوبل انعام کے سالانہ اجرا کا سلسلہ معطل ہو گیا۔ سنہ1944ء کو بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی کو یہ انعام دیا گیا۔ اس طرح ہٹلر اس انعام سے محروم رہا۔