الغوطہ الشرقیہ : فضائی بم باری میں 30 سے زیادہ شہری جاں بحق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نظر رکھنے والے ادارے شامی آبزرویٹری کے مطابق ہفتے کی صبح الغوطہ الشرقیہ کے علاقے زملکا پر فضائی بم باری کے نتیجے میں 30 سے زیادہ شہری جاں بحق ہو گئے۔ آبزرویٹری اس امر کا تعین نہیں کر سکی کہ آیا یہ حملہ شامی حکومت کے طیاروں نے کیا یا پھر روسی فضائیہ کے لڑاکا طیارے شامی شہریوں پر قیامت بن کر ٹوٹے۔

شامی حکومت کی فوج 18 فروری کو شروع کی جانے والی وحشیانہ بم باری کے نتیجے میں اب تک الغوطہ کے 70% رقبے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔ شامی فوج نے پانچ برس سے الغوطہ الشرقیہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق 18 فروری سے اب تک الغوطہ پر حملوں میں 1394 شہری جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 271 بچے شامل ہیں۔

ہفتے کی صبح لڑاکا طیاروں نے الغوطہ کے جنوبی علاقے زملکا پر حملہ کیا جو شامی گروپ "فیلق الرحمن" کے زیر کنٹرول ہے۔

آبزرویٹری کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ جنگی طیاروں نے شہریوں کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ حموریہ کی گزر گاہ کے راستے الغوطہ سے باہر نکلنے کی تیاری کر رہے تھے۔ گزشتہ تین روز کے دوران علاقے سے اجتماعی نقل مکانی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز سے اب تک 40 ہزار سے زیادہ شہری لڑائی اور شدید بم باری کے باعث شامی حکومت کے زیر انتظام علاقوں کی جانب راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔ آج ہفتے کی صبح 10 ہزار سے زیادہ شہریوں نے حموریہ کی گزرگاہ کے راستے الغوطہ سے کوچ کیا۔

پانچ برسوں سے شامی حکومت کی فوج کے ہاتھوں محاصرے کا شکار الغوطہ الشرقیہ پر باقاعدگی کے ساتھ فضائی بم باری اور توپ خانوں کی گولہ باری کا سلسلہ جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں اس وحشیانہ کارروائی میں روسی طیارے بھی شریک ہو گئے۔ بم باری کے نتیجے میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ محاصرے کے سبب غذائی اور طبی مواد کی شدید قلّت اور بھوک سے اموات سامنے آئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں