حوثی شدت پسندوں نے 13 سالہ بچہ بھی جنگ میں جھونک ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں افرادی قلت کے شکار حوثی باغیوں نے بچوں کو جنگ کا ایندھن بنانے کا ظالمانہ سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایاگیا ہے کہ جنگ میں جھونکے گئے کم عمر بچوں میں سے بیشتر لڑائی کے دوران مارے جاتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حال ہی میں سامنے آنے والی ایک فوٹیج میں ایک 13 سالہ بچے کو بھی محاذ جنگ پر دیکھا گیا۔ یہ کم سن محمد احمد محمد عبداللہ صبر ہےجس کی عمر صرف تیرہ سال ہے۔ اسے حوثی باغیوں نے اس کےوالدین کو مطلع کیے بغیر اٹھایا اور سعودی عرب کی سرحد پر محاذ پر پہنچادیا۔ اسے جیزان کے مقام پر بندوق دے کر کھڑا گیا جہاں فائرنگ کے تبادلے میں اس کی موت واقع ہوگئی۔

ذمار شہر سے تعلق رکھنے والے بچے محمد صبر کو 17 نومبر کو اس کے آبائی علاقے میں دفن کیا گیا۔ بچے کے والدین نے صبر کی موت کی ذمہ داری حوثیوں پرعاید کی ہے اور کہا ہے کہ بچے کو انہیں بتائے بغیر اٹھا کر غائب کردیا گیا تھا۔

محمد صبر کےوالد نے بتایا کہ حوثی جنگجو اس کے بچے کو اٹھا کر لے گئے اور اس کی میت انہیں واپس کی گئی۔ وہ اسکول میں پانچویں جماعت کا طلب علم تھا اور اس نے کبھی بندوق نہیں اٹھائی تھی۔

خیال رہے کہ جمعرات کو عالمی سلامتی کونسل نے ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں حوثی باغیوں کے ہاتھوں یمن میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں بالخصوص بچوں کو جنگ کا ایندھن بنائے جانے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں