.

شام میں تنہا فوجی کارروائی کرسکتے ہیں:فرانس

اسد رجیم جنگی جرائم کی مرتکب،مزید جرائم کا ارتکاب ہوسکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فرانس کے آرمی چیف جنرل فرنسو لوکوانٹر کا کہنا ہے کہ ان کا ملک شام میں تنہا کامیاب فوجی کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر شام میں سرخ لکیر کو پامال کیا گیا تو فرانس اس پر خاموش نہیں رہے گا۔ صدر عمانویل ماکروں واضح کرچکے ہیں کہ اگر شام میں کیمیائی اسلحہ استعمال کیا تو فرانسیسی فوج بھرپور کارروائی کرے گی۔

فرانسیسی آرمی چیف نے ’یورپ 1‘ ریڈیو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ فرض کریں کہ صدرعمانویل ماکروں نے شام میں جس چیز کو سرخ لکیر قرار دیا ہے۔ اسے پامال کیاجاتا ہے تو ہماری فوج خاموش کیسے رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم فی الحال شام میں کسی فوجی مہم جوئی کے حوالے سے اپنے پلان کی تفصیلات جاری نہیں کریں گے۔

خیال رہے کہ صدر میکرون نے مئی 2017ء کو ایک بیان میں خبردارکیا تھا کہ اگر شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تو فرانس اس پر فوری کارروائی کرے گا۔

آٹھ مارچ کو فرانسیسی ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ واشنگٹن اور پیرس شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر خاموش نہیں رہیں گے بلکہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مجرموں کو کڑی سزا دی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ فرانس اپنے اپنے اتحادی امریکا اور دیگر ملکوں کے ساتھ مل کر کارروائی کرسکتا ہے۔

فرانسیسی فوج کے سربراہ نے بھی کہا کہ اگر شام میں فوجی کارروائی ضروری ہوئی تو وہ اپنے اتحادی امریکا کے ساتھ مل کر کارروائی کرے گا۔ اس کے علاوہ فرانس تنہا بھی شام میں کارروائی کرسکتا ہے۔

ادھر ایک دوسرے سیاق میں اقوام متحدہ میں فرانس کے مندوب نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ اسد رجیم جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے اور آنے والے عرصے میں جنگی جرائم میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ فرانسیسی مندوب نے کہا کہ پیرس شام میں فوجی کارروائیاں روکنے کے لیے شام اور روس پر دباؤ ڈالتا رہے گا۔