.

حوثیوں نے ڈھیر ہونے سے بچنے کے لیے کس شخصیت سے مدد لی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی مسلح افواج کے مورال کی رہ نمائی کے بارے میں جاری ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ "الامیر" کے نام سے معروف یورپی شہریت کے حامل ایک ایرانی فوجی ماہر کو حوثی ملیشیا کے لیے عسکری منصوبہ بندی کی ذمے داری سونپی گئی۔ اس اقدام کا مقصد یہ تھا کہ کچھ عرصہ قبل یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں کے سامنے بھاری نقصانات کے بعد حوثی ملیشیا کو ڈھیر ہو جانے سے بچایا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق ایرانی عسکری ماہر کی جانب سے پیش کیے جانے والے منصوبے میں زمینی طور پر حوثی ملیشیا کی از سر نو تنظیم اور صعدہ کے محاذوں پر تعیناتی کی ترتیب شامل تھی۔

رپورٹ میں زمینی ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے 5 متحرّک جتھے تشکیل دیے جن کا انتخاب لڑائی کے محاذوں پر موجود باغی عناصر میں سے کیا گیا۔ اس طرح سرحدی محاذوں کے علاوہ نہم اور صراوح کے محاذوں سے 70% سے زیادہ عناصر کو ہٹا لیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان جتھوں کی قیادت حوثی کمانڈر ہاشم الغماری کے حوالے کی گئی۔ ان کا صدر دفتر صنعاء میں مسلح افواج کی جنرل کمان کی عمارت میں ہے۔ اس کے علاوہ صعدہ اور الحدیدہ میں کمان کی دو شاخیں بھی قائم کی گئی ہیں۔

رپورٹ کے ذرائع نے باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے کچھ عرصہ پہلے ان جتھوں کے بعض عناصر کو صعدہ کے شمال میں البقع کے محور پر بھیجا۔ اس اقدام کا مقصد گزشتہ عرصے کے دوران ہاتھ سے نکل جانے والے علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کرنا اور ایک وسیع حملے کی تیاری کرنا ہے۔