.

’’دہشت گردی مخالف چار عرب ممالک قطر سے 13 مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے‘‘

قطر عرب ممالک کے خدشات دور کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے: : مصر ، یو اے ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے وزیر خارجہ سامح الشکری نے قطر پر زوردیا ہے کہ وہ دہشت گردی مخالف گروپ چار میں شامل ممالک کی تشویش کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ حکمت عملی اختیار کرے۔

سامح شکری نے یہ بات اتور کو دارالحکومت قاہرہ میں اپنے اماراتی ہم منصب شیخ عبداللہ بن زاید آل نہیان سے ملاقات کے بعد ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہی ہے۔انھوں نے اس موقف کا ا عادہ کیا ہے کہ قطر کا ایشو چاروں عرب ممالک کے درمیان گفتگو کا کوئی بڑا یا مرکزی موضوع نہیں ہوتا ہے۔

اس موقع پر مہمان وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ مصر ، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے درمیان وقت کے ساتھ باہمی تعلقا ت مزید مضبوط ہورہے ہیں۔

دونوں وزرائے خارجہ نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ چاروں ممالک قطر سے کیے گئے تیرہ مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں اور وہ اس سے ان پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔

شیخ عبداللہ نے مصر اور متحدہ عرب امارات کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا ۔انھوں نے خطے کو درپیش مسائل اور بالخصوص دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے مصر کے ساتھ دوطرفہ روابط کو سراہا ۔

دریں اثناء قاہرہ میں اماراتی وزیر خارجہ کے دورے کے موقع پر مصر اور یو اے ای کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کا اجلاس ہوا ہے۔اجلاس کی صدارت امارات کے وزیر برائے اقتصادی امور سلطان بن سعید آل منصوری اور مصر کے صنعت وتجارت کے وزیر طارق قبیل نے مشترکہ طور پر کی ۔

واضح رہے کہ چار عرب ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے جون 2017ءسے قطر کا معاشی ، سیاسی اور سفارتی بائیکاٹ کررکھا ہے۔اس حوالے سے قطری ارباب اقتدار مسلسل تضاد بیانی سے کام لے ر ہے ہیں۔وہ ایک جانب یہ کہہ رہے ہیں کہ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں ان کا ملک مضبوط ہواہے اور دوسری جانب ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان کے ملک کو اس ’’ محاصرے‘‘ کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔