.

الغوطہ: اسکول میں پناہ لیے ہوئے 15 بچّے وحشیانہ بم باری کا نشانہ بن گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت نے الغوطہ الشرقیہ میں عوام کے قتلِ عام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ شامی آبزرویٹری عکے مطابق پیر کے روز عربین ٹاؤن میں ایک اسکول پر شامی طیاروں کی وحشیانہ بم باری کے نتیجے میں وہاں پناہ لیے ہوئے 15 بچّے اور دو خواتین لقمہ اجل بن گئیں۔ شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول علاقے میں اس کارروائی میں 50 افراد زخمی بھی ہوئے۔ المرصد نے بتایا کہ شہری دفاع کے اہل کار اس وقت ملبے کے نیچے سے لوگوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔

شامی حکومت کی فورسز 18 فروری سے الغوطہ الشرقیہ میں کارروائی کر رہی ہے۔ اس کا آغاز شدید فضائی بم باری سے کیا گیا اور بعد ازاں زمینی حملہ بھی کر دیا گیا۔ اس کے نتیجے میں بشار کی فوج اس الغوطہ کے 80% سے زیادہ رقبے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہے۔ الغوطہ کو دارالحکومت دمشق کے نزدیک اپوزیشن کے جنگجوؤں کا آخری گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔

الغوطہ میں پیش قدمی سے شامی حکومت کی فورسز علاقے کو تین علاحدہ حصوں میں تقسیم کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ شمال میں دوما کا علاقہ جس پر جیش الاسلام تنظیم کا کنٹرول ہے، مغرب میں حرستا کا علاقہ جہاں احرار الشام تنظیم قابض ہے اور جنوب میں واقع قصبے شامل ہیں جن پر فیلق الرحمن گروپ کنٹرول رکھتی ہے۔

آبزرویٹری کے مطابق 18 فروری کو الغوطہ الشرقیہ پر حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 1435 سے زیادہ شامی شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔