.

سعودی عرب منشیات اسمگل کرنے کے عجیب وغریب طریقے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیرون ملک سے سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے مکروہ دہندے کے لیے جرائم پیشہ عناصر عجیب وغریب طریقے اپناتے ہیں۔ حال ہی میں سعودی عرب کی شمالی سرحد پرکسٹمز حکام نے اردن سے ایک مسافر برادر بس کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی بڑی سازش ناکام بنا کر77 ہزار نو سو ’کپٹاگون’ گولیاں قبضے میں لے لیں۔

حالہ عمار گذرگاہ کے کسمٹز ڈائرکٹر خالد الرمیح بے بتایا کہ اردن سے سعودی عرب داخل ہونے والی مسافر بس کی تلاشی لی گئی تو اس میں ہزاروں کی تعداد میں کپٹاگون کی گولیاں برآمد ہوئیں۔ یہ تمام گولیاں خوراک کا سامان رکھنے کے لیے بنائی گئی پلاسٹک کی تین ٹوکریوں میں رکھی گئی تھیں۔ انہیں چھپانے کے لیے ٹوکریوں میں خوراک کا سامان بھی تھا۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ سعودی کسٹمز حکام نے بیرون ملک سے منشیات کی اسگلنگ کی کوشش ناکام بنائی ہے۔ ماضی میں متعدد بار ایسا ہوچکا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نےاردن سے منشیات کی اسمگلنگ کی سازش ناکام بنائے جانے کے بعد ماضی میں اس مکروہ دہندے کی ترویج کے لیے استعمال ہونے والے مختلف حربوں پر روشنی ڈالی ہے۔ ان میں بعض حربے محیر العقول اور عجیب وغریب ہیں۔

سعودی عرب کے ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے انسداد منشیات کے تعاون سے العربیہ ڈاٹ نیٹ نے منشیات کی اسمگلنگ کے مختلف طریقوں کو تصاویر کی مدد سے نمایاں کیا ہے۔ جرائم پیشہ اور انسان دشمن عناصر بسا اوقات اپنے انسانیت سوز جرم کے لیے انتہائی عجیب اور نرالے طریقے اپناتے ہیں۔ ان میں بکریوں کی انٹریاں، پھلوں، ٹماٹروں، گوبی کے پتوں،مونگ پھلی کے دانوں،رنگ گورا کرنے والی کریم کی بوتلوں، پانی کے فلٹروں، گاڑیوں کے اسپیئرپارٹس، پانی کے برتنوں حتیٰ کہ گیس کے سلینڈروں کی مدد سے بھی منشیات اسمگل کی جاتی ہیں۔ یہ امر سب سے زیادہ حیران کن ہے کہ گیس کے سلینڈروں کے ذریعے بھی منشیات اسمگل کی جاتی رہی ہے۔

ذیل میں منشیات کی اسمگلنگ کے چند نرالے طریقے بیان کیے جاتے ہیں۔

مردہ جانوروں کے ذریعے اسمگلنگ

بعض انسان دشمن عناصر مردہ جانوروں کی انتڑیوں منشیات ڈال کر انہیں سعوددی عرب پہنچاتےہیں۔ حال ہی میں سعودی کسٹمز حکام نے مختلف جانوروں کی 204 اوجھ اور انتڑیاں قبضے میں لیں۔

پیاز

منشیات کی اسمگلنگ کے حیران کر دینے والے طریقوں میں پیاز کا استعمال بھی شامل ہے۔ کچھ عرصہ پیشتر سعودی کسٹمز حکام نے سرحد پر پیاز سے لدا ایک ٹرک پکڑا۔ کسٹمز کے تفتیش کاروں کو شبہ ہوا کہ اس میں منشیات چھپائی گئی ہے۔ پیاز کی بوریوں کے درمیان پلاسٹک کے ایک بیگ میں منشیات کی بھاری مقدار رکھی گئی تھی۔

روٹی، پیسٹ اور مشروبات

سعودی عرب اور اردن کے درمیان حالہ عمار گذرگاہ کو دو طرفہ آمد ورفت بالخصوص معتمرین کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس گذرگاہ پر تعینات کسٹمز حکام نے بتایا کہ انہوں نے سعودی عرب داخل ہونے والی ایک مال بردار گاڑی کی تلاشی لی جس میں مختلف پیسٹوں[معجون] کے ڈبوں میں کپٹاگون [فینیتھلین] منشیات کی 46 ہزار گولیاں چھپائی گئی تھیں۔ اس کے علاوہ پائی گئی روٹی کے اندر 52 ہزار نشہ آور گولیاں پکڑی گئیں جب کہ مشروبات کے ڈبوں سے بھی منشیات برآمد کی گئی۔

لیمو اور مالٹا

منشیات کی اسمگلنگ کے مختلف حربوں میں لیمو اور مالٹے کا استعمال بھی شامل ہے۔ اسمگلر لیمو اور مالٹے کو اند سے خالی کرنےکے بعد ان میں منشیات بھر دیتے ہیں۔ کسٹمز حکام نے لیمو اور مالٹے کے ذریعے منشیات کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے 51 ہزار گولیاں قبضے میں لیں۔

دیسی مکھن

آپ یقین نہیں کریں نا کریں مگر اسمگلر منشیات کی اسمگلنگ کے لیے مکھن کے ڈبوں کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ ڈبے باقاعدہ سیل پیک ہوتے ہیں مگر اسمگلر ایسے ڈھنگ سے انہیں کھول کر دبارہ پیک کرتے ہیں کہ ان کی سیل کھلنے کا شائبہ نہیں ہوتا۔ کسٹمز حکام مکھن کے ڈبوں کی مدد سے 5 لاکھ 72 ہزار فینیلیتھن گولیاں ضبط کرچکے ہیں۔

قران کریم کی ریلوں اور ڈائریوں کا استعمال

سعودی عرب کی مذہبی حیثیت کو سامنے رکھتے ہوئے بیرون ملک سے قرآن پاک رکھنے کے لیے لکڑی کی تیار کردہ ریلیں منگوائی جاتی ہیں۔ اسمگلر لڑکی کی بنی ان ریلوں اور ڈائریریوں کو بھی منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرتے پائے گئےہیں۔ کسٹمز حکام نے اس طریقے سے 20 لاکھ سے زاید کپٹاگون منشیات گولیاں قبضے میں لیں۔

نقلی بتیسیاں

مدینہ منورہ کے شاہ عبدالعزیز بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کسٹمز حکام نے ایک مسافر کے دانتوں کی نقلی بتیسی کی جانچ پڑتال کی تو پتا چلا کہ مصنوعی دانتوں میں 6 گرام افیون چھپائی گئی ہے۔ بعض اسمگلر اپنا جسم چیر کر اس میں منشیات چھپا کر دوسرے مقامات تک پہنچانے کے حربے بھی استعمال کرتے ہیں۔