.

سفیر پر سبّ و شتم: واشنگٹن کا محمود عباس کو امن یا نفرت میں کسی ایک کے انتخاب کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس کی جانب سے اسرائیل میں امریکی سفیر کو سبّ و شتم کا نشانہ بنائے جانے کے بعد وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز اس "اہانت آمیز" بیان کی شدّت سے مذمت کی ہے۔

مشرق وسطی کے لیے امریکی صدر دونلڈ ٹرمپ کے ایلچی جیسن گرین بیلٹ کا کہنا ہے کہ "اب وقت آ گیا ہے کہ صدر عباس نفرت آمیز خطاب یا امن کے قیام اور اپنے عوام کی زندگی بہتر بنانے کے لیے کوششوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کر لیں"۔

وہائٹ ہاؤس کا یہ تبصرہ فلسطینی صدر کے اس بیان کے چند گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے جس میں محمود عباس نے اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین کو "کتے کی اولاد" بول دیا تھا۔

عباس نے پیر کے روز رام اللہ میں فلسطینی قیادت کے اجلاس کے آغاز پر کہا کہ "ٹرمپ انتظامیہ یہودی بستیوں کی آباد کاری کو قانونی سمجھتی ہے۔ ایک سے زیادہ امریکی عہدے دار اس بات کا برملا اظہار کر چکے ہیں جن میں یہاں تل ابیب میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈمین سرِفہرست ہے۔ فریڈمین نے کہا کہ وہ (اسرائیلی) اپنی ہی سرزمین پر تعمیرات کر رہے ہیں - کتے کی اولاد - وہ اپنی سرزمین پر بستیاں بنا رہے ہیں؟ وہ اور اس کا خاندان خود بستیوں کا آباد کار ہے اور وہ تل ابیب میں امریکی سفیر بھی ہے۔ ہم اس سے کس بات کے منتظر رہیں"۔

عباس کے مطابق صدر ٹرمپ کی انتظامیہ فلسطینی قومی منصوبے کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔ اس پلان پر عمل درامد اس وقت شروع ہوا جب بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا گیا اور امریکا نے اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ساتھ ہی فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد کے لیے کام کرنے والی ایجنسی اونروا کے لیے مختص فنڈنگ میں کٹوتی کر دی۔

یاد رہے کہ امریکی صدر نے چھ دسمبر 2017ء کو بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس اعلان نے فلسطینیوں اور عربوں کو چراغ پا کر دیا۔

اس کے جواب میں فلسطینیوں نے امریکی ذمّے داران کے ساتھ تمام رابطے موقوف کر دیے۔