.

عراق میں 2015ء میں اغوا کیے گئے 39 بھارتی ورکروں کی لاشیں برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں تین سال قبل اغوا کیے گئے 39 بھارتی ورکروں کی لاشیں مل گئی ہیں۔ انھیں سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے شمالی شہر موصل سے 2015ء میں اغوا کیا تھا اور بعد میں قتل کردیا تھا۔

بھارت کی وزیر خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان میں اپنے ان تمام شہریوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔ ان میں سے بیشتر کا تعلق شمالی ہندوستان سے تھا اور و ہ عراق میں ایک تعمیراتی کمپنی کےملازمین تھے۔

ان کے رشتے داروں نے تب بتایا تھا کہ انھوں نے 2015ء میں موصل سے اغوا کے پانچ روز بعد فون پر رابطہ کیا تھا اور اپنی رہائی کے لیے مدد کی اپیل کی تھی۔اس وقت قریباً دس ہزار بھارتی عراق میں مختلف شعبوں میں کام کررہے تھے۔

بھارت کی خارجہ امور کی وزیر سشما سوارج نے پارلیمان کو بتایا ہے کہ ان ورکروں کی لاشیں حال ہی میں موصل کے شمال مغرب میں واقع گاؤں ایک بدوش سے ملی تھیں ۔داعش انھیں مبینہ طور پر قتل کرنے کے بعد مٹی کے ایک تودے کے نیچے دبا دیا تھا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ عراقی فورسز کے موصل پر دوبارہ کنٹرول کے بعد سے ان تارکینِ وطن کی تلاش جاری تھی اور بدوش کے مکینوں نے حال ہی میں عراقی حکوم کو ان کے بارے میں یہ بتایا تھا کہ انھیں داعش کے جنگجوؤں نے مٹی کے تودے تلے دفن کردیا تھا۔

عراقی حکام کو راڈار کے ذریعے وہاں ایک اجتماعی قبر کا پتا چلا تھا اور انھوں نے پھر وہاں سے کھدائی کے بعد لاشیں نکال لی تھیں۔ان لاپتا مقتول ورکروں کے ڈی این اے کے نمونے بھارت میں ان کے رشتے داروں سے ملانے کے لیے بھیجے تھے۔

سشما سوراج نے بتایا کہ عراقی حکام نے بھارتی حکومت کو سوموار کو یہ مطلع کیا تھا کہ ان میں سے 38 کے نمونے بھارتی شہریوں سے مل گئے ہیں اور آخری انتالیسویں لاش کی ابھی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔