.

فلسطینی صدر کا حماس پر رامی الحمداللہ پر قاتلانہ حملے میں ملوث ہونے کا الزام

ہم نے مصالحت کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا، حماس نے تمام کوششوں کو سبوتاژ کر دیا: محمود عباس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنی حریف جماعت حماس پر گذشتہ ہفتے غزہ میں وزیراعظم رامی الحمداللہ اور انٹیلی جنس چیف ماجد فرج پر قاتلانہ حملے کی سازش میں ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا ہے اور یہ دھمیر دی ہے کہ انھوں نے حماس کو اس کے فعل کی سزا دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس کے خلاف قومی ، قانونی اور مالیاتی اقدامات کیے جائیں گے۔

صدر محمود عباس نے سوموار کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی قیادت کے ایک اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کو سزا نہیں دینا چاہتے ہیں بلکہ وہ حماس کے خلاف کارروائی کرنا چاہتے ہیں جو غزہ میں فلسطینی حکومت کی عمل داری میں حائل ہے۔انھوں نے کہا:’’ ہم نے کبھی غزہ یا مغربی کنارے میں کسی فلسطینی کو سزا دینے کا نہیں سوچا ہے بلکہ ہمیں یہ کہنا ہوگا کہ غلط کیا ہے اور جرم کہاں ہوا ہے؟‘‘

محمود عباس نے حماس پر مصالحت کی تمام کوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یا تو فلسطینی حکومت غزہ میں ہر چیز کو مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لے لے یا پھر عبوری اتھارٹی اس کی مکمل ذمے دار ہوجائے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ہم نے مصالحت کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا لیکن بدقسمتی سے حکومت کو بااختیار بنانے کا نتیجہ صفر رہا ہے۔ہم نے گذشتہ چھے ماہ کے دوران میں سخت جاں فشانی سے کام کیا لیکن ہمیں کچھ حاصل وصول نہیں ہوا ۔حکومت ،کراسنگز ، سکیورٹی میں سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا۔ یہ سب منافقت ہے ۔وہ مصالحت نہیں چاہتے ہیں‘‘۔

فلسطینی خبررساں ایجنسی وفا کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ ’’مصالحت کے لیے بات چیت کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ وزیراعظم رامی الحمداللہ اور انٹیلی جنس چیف فرج پر قاتلانہ حملہ کر دیا گیا ہے۔اب ہم اس قاتلانہ حملے کے واقعے کی حماس کی تحقیقات کا انتظار نہیں کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس سازش کے پیچھے اسی کا ہاتھ کار فرما ہے‘‘۔

انھوں نے حماس کے بارے میں سخت لب ولہجے میں کہا کہ قتل اس کے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں ۔اس کی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس کوشش کے جواب میں ضرور ردعمل آئے گا۔

محمود عباس نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ حماس پر یہ الزام بھی عاید کیا ہے کہ وہ دونوں فلسطینیوں کی قومی آزادی کے منصوبے کو تباہ کرنے کے درپے ہیں اور اس ضمن میں ایک دوسرے سے تعاون کررہے ہیں کیونکہ وہ غزہ میں ایک الگ ریاست چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا غربِ اردن اور غزہ کی علاحدگی کی حمایت کرتا ہے اور وہ ایک متحدہ فلسطینی ریاست نہیں چاہتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے القدس ( یروشلیم ) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا ہے اور فلسطینی مہاجرین کے لیے اقوام متحدہ کے تحت ریلیف ایجنسی کی مالی امداد بند کردی ہے ۔اس کا مقصد فلسطینیوں کی آزادی اور ریاست کے قیام کے لیے امنگوں کو تباہ کرنے کے سوا کچھ نہیں ۔

انھوں نے اپنی تقریر میں اسرائیل میں متعیّن امریکی سفیر ڈیوڈ فرائیڈمین کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ’’وہ ایک آباد کار ہیں اور فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کے حامی ہیں ۔ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ اسرائیل انھیں اپنے علاقے میں بسا رہا ہے اور مقبوضہ علاقوں میں نہیں ۔اب ایک آباد کار سے اس کے سوا اور کیا توقع کی جاسکتی ہے‘‘۔