.

ٹرمپ کے سمدھی نے قطر کی جانب سے فنڈنگ کی پیش کش مسترد کر دی تھی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر کے والد چارلس کُشنر نے 2017ء میں قطری وزیر مالیات علی شریف العمادی کی جانب سے پیش کی جانے والی رقم قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس بات کا انکشاف اتوار کے روز چارلس کشنر گروپ کی جانب سے کیا گیا۔

گروپ کے مطابق قطری وزیر اور امریکی صدر ٹرمپ کے سمدھی کشنر کے درمیان ملاقات اپریل 2017ء میں نیویارک کے "سینٹ ریگز" ہوٹل میں ہوئی۔ ملاقات میں قطری وزیر مالیات نے کشنر گروپ کے ایک غیر مستحکم ہوتے ہوئے پراپرٹی کے منصوبے کے لیے فنڈنگ کی پیش کش کی۔ چارلس کشنر نے باور کرایا کہ انہوں نے قطری فنڈنگ کو اس لیے مسترد کیا تا کہ مفادات کے کسی بھی تصادم سے ان کے بیٹے جیرڈ کو ضرر نہ پہنچے جو خاندان کے زیر انتظام کمپنیوں کو چلا رہا ہے اور ساتھ ہی وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے مشیر کے منصب پر فائز ہے۔

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کو دیے گئے بیان میں چارلس کشنر نے واضح کیا کہ مذکورہ ملاقات کا مطالبہ قطریوں نے کیا تھا اور ملاقات سے قبل ہی فیصلہ کر لیا گیا تھا کہ کسی قسم کی سرکاری فنڈنگ قبول نہیں کی جائے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل کشنر گروپ نے اپنے ایک منصوبے کے لیے سرکاری فنڈنگ کے حصول کے واسطے قطری عہدے دار کے ساتھ کسی بھی ملاقات کی تردید کی تھی۔

کشنر گروپ نے 2017ء میں نیویارک کے مشہور علاقے مین ہیٹن میں ایک 44 منزلہ ٹاور 1.8 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔ اس کے فوری بعد پراپرٹی مارکیٹ گر گئی اور یہ منصوبہ ایک ارب ڈالر کے قرضے کے نیچے آ گیا۔

کشنر گروپ نے فیصلہ کیا کہ اس بحران کا حل ٹاور کے حجم میں اضافے میں پوشیدہ ہے جس کے لیے گروپ کو فنڈنگ کی ضرورت پڑی۔ اس موقع پر قطر اس منظرنامے میں نمودار ہوا۔

اس سے قبل کشنر گروپ نے 2014 -2016 کے بیچ قطر کے نجی سیکٹر سے فنڈنگ کے حصول کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ایک فنڈ سے رابطہ کیا گیا جس کو قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم آل ثانی چلا رہے ہیں۔

واشنگٹن میں قطر کے سفارت خانے کا کہنا ہے کہ "واشنگٹن پوسٹ" کی رپورٹ اور چارلس کشنر کے بیان کے حوالے سے ان کے ملک کی حکومت کا کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق چارلس کشنر اور قطری حلقوں کے درمیان ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب صدر ٹرمپ کا داماد جیرڈ مشرق وسطی میں امریکی انتظامیہ کی نئی پالیسی کو شکل دینے اور اسرائیل اور فلسطینیوں کے بیچ ایک نئے امن منصوبے کی تیاری میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔

علاوہ ازیں جیرڈ کشنر مئی 2017ء کے اواخر میں ٹرمپ کے بیرونی دورے کی تیاری میں مصروف تھا۔ اس دورے میں سعودی عرب ، اسرائیل اور یورپ شامل تھا۔

ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے اختتام کے بعد مملکت اور متحدہ عرب امارات نے عالمی سطح پر دہشت گردی کی فنڈنگ اور پڑوسی ممالک کے امور میں مداخلت کے پس منظر میں قطر کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں مصر اور بحرین بھی اس بائیکاٹ میں شامل ہو گئے۔