.

الغوطہ الشرقیہ: روس کے توسط سے ایک شامی اپوزیشن گروپ کے انخلاء کا معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز شامی اپوزیشن کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ روس کے توسط سے ایک معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت الغوطہ الشرقیہ کے ایک قصبے سے مسلح افراد کے ایک گروپ کا انخلاء عمل میں آئے گا۔ یہ الغوطہ الشرقیہ کے حوالے سے اپنی نوعیت کا پہلا سمجھوتہ ہے۔

ذرائع کے مطابق حرستا قصبے پر کنٹرول رکھنے والی جماعت احرار الشام کے جنگجو شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول دیگر علاقوں کی جانب محفوظ راستہ ملنے کے مقابل اپنے ہتھیار ڈالنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ البتہ جو جنگجو قصبے میں رکنے کے خواہش مند ہیں وہ شامی حکومت کے ساتھ مقامی مصالحت کی شرائط کی رُو سے ٹھہر سکتے ہیں۔

شامی حکومت اور اس کی حلیف ملیشیاؤں نے الغوطہ میں شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول اراضی میں سے 70% حصّہ واپس لے لیا ہے۔ کئی ہفتوں سے جاری بم باری کے نتیجے میں ہزاروں شہری الغوطہ سے فرار ہو چکے ہیں۔

الغوطہ میں 18 فروری سے روسی فضائیہ کی معاونت کے ساتھ جاری شامی حکومت کے حملوں میں اب تک 1400 سے زیادہ شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔

شامی حکومت نے اتوار کے روز حرستا میں موجود اپوزیشن جنگجوؤں کو انخلاء کے لیے مہلت دی تھی۔