.

بشار الاسد کے مقرّب کا بھیانک خواب الغوطہ میں حقیقت کا روپ دھار گیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشار الاسد کے ایک انتہائی قریبی کارکن وسام الطیر نے مختلف انعامات حاصل کیے۔ اسے بشار کی اہلیہ کی طرف سے اعزاز و اکرام سے نوازا گیا۔ اس طرح وسام سرکاری میڈیا اور شامی حکومت کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور سرکاری ٹی وی اور ریڈیو پر ایک معروف شخصیت بن گیا۔

تاہم گزشتہ اتوار بشار الاسد کا الغوطہ الشرقیہ کا دورہ وسام الطیر کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوا جب اُسے شامی صدر کے دورے کی کوریج کرنے سے روک دیا گیا۔ فیس بک پر "عرين الحرس الجمهوری" کے نام سے شامی حکومت کے ہمنوا پیج کے مطابق وسام کو اس کوریج سے روکنے کی وجہ یہ ہے کہ اُس پر "مسلح عناصر کے لیے مخبری کرنے کا الزام ہے۔ اس کی سرگرمیوں کے حوالے سے بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں"۔

ادھر وسام نے کوریج سے روکے جانے کے بعد اپنے فیس بک پیج پر کہا ہے کہ "وسام الطیر نہ تو کوئی ایجنٹ ہے اور نہ ہی غدار کہ آپ لوگ اس کی کڑی نگرانی کریں۔ وہ اس ملک کو نقصان پہنچانے والا نہیں کہ آپ اس کو تنگی میں ڈالیں"۔

شامی اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے بعض پیجز اور ویب سائٹوں نے وسام سے متعلق خبر کو کافی توجہ دی ہے اور اس پر عائد الزامات اور کام سے روک دیے جانے کے حوالے سے بھی مواد نشر کیا ہے۔

اس سے قبل 28 اکتوبر 2016ء کو وسام نے اپنی ایک پوسٹ میں اپنے ایک خواب کا ذکر کیا تھا۔ وسام کے مطابق اس نے خود کو الغوطہ الشرقیہ کے علاقے حرستا میں دیکھا جہاں وہ مسلح افراد کے چنگل سے فرار ہونے کا ارادہ کرتا ہے۔ وہ بشار کی فوج کی جانب فرار ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔ آگے وسام نے کہا کہ وہ خوف زدہ تھا کہ فوج اس کو دشمن سمجھ کر فائرنگ نہ کر دے۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ اب ڈیڑھ برس بعد اس کو جس مقام پر اپنے بھیانک خواب کی تعبیر ملی وہ بھی الغوطہ الشرقیہ کا ہی علاقہ ہے۔ البتہ خواب میں تو اسے بشار کی فوج کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بننے کا خوف تھا تاہم حقیقت میں فوج نے اس کو غدار اور مشکوک قرار دیا ہے۔