.

عراق کی مسیحی برادری موت اور ذلت ورسوائی کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ’داعش‘ اور دیگر دہشت گرد گروپوں کے مظالم سےدیگر طبقات کے ساتھ عراق کی مسیحی برادری بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ داعش کےزیرتسلط رہنے والے عراقی شہروں بالخصوص موصل میں بسنے والے عیسائیوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں بدترین مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں اپنے گھر بار اور شہر چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔ داعش کے جنگجوؤں نے بڑی تعداد میں مسیحی برادری کے مردوں کو موت کےگھاٹ اتار دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے عراق کے عیسائی طبقے کو درپیش مشکلات پر ایک رپورٹ میں روشنی ڈالی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق کی مسیحی برادری دہری مصیبت کا شکار ہے۔ اگر وہ اپنے علاقوں میں رہتے ہیں تو موت ان کا پیچھا کرتی ہے اور گھر بار چھوڑ تے ہیں تو انہیں ھجرت اور بے گھری کی مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عراق کی ایک مسیحی دوشیزہ نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے اپنی کتھا بیان کی۔ انیس سالہ شھد جو اپنے والدین اور اپنے سے سات سال چھوٹے بھائی کے ساتھ موصل کے علاقے الحمدانیہ سے ھجرت کرکے بغداد میں قیام پر مجبور ہوئی نے کہا کہ اس نے داعش کے مظالم اور جنگ کی تباہ کاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

اپنی بات کو آگےبڑھاتے ہوئے شھد نے کہا کہ وہ اپنے آبائی شہر موصل واپس جانے کا خواب دیکھ رہی ہے مگر موجودہ حالات میں اس کا خاندان واپسی کے متحمل نہیں۔ دہشت گردی نے نہ صرف ان کے لوگوں کو موت کی نیند سلایا بلکہ ان کی امیدوں کا بھی قتل عام کیا۔ میرے والد اپنا گھر اور گاڑی انتہائی کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہوئے تاکہ فرار کےاخراجات پورے کیے جاسکیں۔ بغداد کی طرف نقل مکانی کے بعد بھی وہ سکون کی نیند نہیں سوسکتے۔ وہ کسی دوسرے ملک یا یورپی ملک کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ جہاں وہ بقیہ زندگی امن اور استحکام کے ساتھ گذارسکیں۔

خیال رہے کہ عراق میں داعش کے خلاف جنگ تو ختم ہوچکی ہے مگر ملک میں انتہا پسندانہ نظریات بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ عراق کی عیسائی برادری اور دیگر اقلیتوں کے لیے انتہا پسندانہ نظریات سب سے بڑا خطرہ ہیں، جس کے باعث انہیں قتل، ھجرت، اغواء اور دیگر جرائم کا سامناہے۔

چند روز قبل ایک خاتون عیسائی ڈاکٹر شذی اور اس کے پورے خاندان کو نامعلوم افراد نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ عراق کے انجیلی چرچ کے عہدیداروں نے اس واقعے کومحض اس لیے مخفی رکھا تاکہ دیگر عیسائیوں میں مزید خوف وہراس نہ پھیلے۔

گرجا گھر بھی خطرے میں

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے عراق کے ایک عیسائی پادری فادی رغید نے کہا کہ ان کے گرجا گھر مسلسل خطرے میں ہیں۔ ان کاکہنا تھا کہ عراق کی تعمیر نو میں مسیحی برادری کا خون بھی شامل ہے مگر انہیں افسوس ہے کہ عراقی حکومتیں انہیں مسلسل نظرانداز کررہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں عیسائی پادری کاکہنا تھا کہ ہماری برادری کے بیشتر لوگوں کی پہلی کوشش اپنے ہی ملک میں رہنے کی ہے مگر انہیں منظم مافیاؤں کی طرف سے خطرات لاحق نہیں۔ وہ آزادانہ اپنی مذہبی رسومات کی ادائی سے ڈرتے ہیں۔ عیسائی براری نے ہمیشہ تمام طبقات کےساتھ مل کربقائے باہمی کے تحت زندگی گذرانے کا اصول اپنایا۔

پادری فادی رغید کا کہنا تھا کہ سنہ 2003ء میں عراق میں عیسائی برادری کی مشکلات بڑھنا شروع ہوئیں۔ پہلے پہل القاعدہ ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ تھی۔ سنہ 2014ء میں داعش اور دیگر شدت پسند مسلح گروپوں نے عراق کے عیسائیوں کے خلاف حملےشروع کیے۔ ان عبادت گاہوں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایا جانے لگا۔