عراق: 12 مسلح کرد ترکی کے فضائی حملے کا نشانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکی کی فوج نے بدھ کے روز اپنی ایک ٹوئیٹ میں اعلان کیا ہے کہ شمالی عراق میں ترکی کے لڑاکا طیاروں کے فضائی حملے کے نتیجے میں کالعدم تنظیم کردستان ورکرز پارٹی کے کم از کم 12 مسلح ارکان کو "بے اثر" کر دیا گیا ہے۔

ترکی کے حکام اپنے بیانات میں اکثر "بے اثر" کا لفظ یہ بتانے کے واسطے استعمال کرتے ہیں کہ مذکورہ دہشت گردوں نے یا تو ہتھیار ڈال دیے ہیں یا وہ ہلاک کر دیے گئے ہیں اور یا پھر قید کر لیے گئے ہیں۔

ترکی کی فوج نے واضح کیا کہ گزشتہ روز منگل کو شمالی عراق کے علاقے ہاکورک میں نشانہ بنائے جانے والے مسلح عناصر حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

ترکی کی جانب سے شمالی عراق میں کردستان ورکرز پارٹی کے ٹھکانوں کو وقفے وقفے سے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جہاں پارٹی سے تعلق رکھنے والے باغی قندیل کے پہاڑی علاقے میں موجود ہیں۔

امریکا ، یورپی یونین اور ترکی کردستان ورکرز پارٹی کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتے ہیں۔

اس پارٹی نے ترکی کے جنوب مشرق میں کرد اکثریتی علاقوں میں تیس برس سے بغاوت کا پرچم بلند کر رکھا ہے۔ اس کے نتیجے میں تقریبا 40 ہزار افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں