.

فلسطینی صحافی کی ذہانت نے پورا گاؤں صہیونی قبضے میں جانے سے بچا لیا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سن 1948ء میں فلسطین پر قبضے کے دوران ایک فلسطینی صحافی نے پورے گاؤں کو صہیونی ٹولیوں کے قبضے میں جانے سے بچا لیا۔ اس صحافی نے جو طریقہ اختیار کیا وہ شائد کسی زیرک ترین جنگی منصوبہ ساز کے دل میں بھی کبھی نہیں آیا ہو گا۔

مذکورہ برس 15 مئی کو صہیونی گروہوں نے خوف و دہشت کو فلسطینیوں کی زبردستی ہجرت کے واسطے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ بعض علاقوں میں اس لیے قتل عام کیا گیا تا کہ ملحقہ علاقوں میں رہنے والوں کے دلوں میں خوف بیٹھ جائے اور وہ بچوں ، خواتین اور بوڑھوں کی زندگی کے ڈر سے بھاگ نکلیں۔

فلسطین کے شہر بیت لحم کا مضافاتی گاؤں " بتّیر" ان دیہات میں شامل تھا جس کے باسی پڑوسی علاقوں میں ہونے والے قتل عام سے ڈر کر ہجرت کر گئے تھے۔ تاہم فلسطینی صحافی حسن مصطفى مذکورہ گاؤں میں ہی رہا۔ وہ روزانہ شام کو خالی گھروں میں جا کر وہاں تیل کے لیمپ روشن کرتا۔ اس کے نتیجے میں صہیونی عناصر نے گمان کیا کہ بتیر کے رہنے والے چوکنا اور مسلح ہیں۔ اس طرح یہ گاؤں 1948ء میں قبضے سے محفوظ رہا۔

فلسطینی صحافی عارف حجاوی نے یہ پورا واقعہ اپنی ایک ٹوئیٹ میں بیان کیا ہے۔

اس واقعے کا بنیادی کردار فلسطینی صحافی حسن مصطفی وہ پہلا شخص تھا جس نے ذاتی طور پر اپنے گاؤں میں لڑکیوں کے لیے اسکول کھولنے کی کوششیں کیں۔ اس نے گاؤں سے ہجرت کر جانے والوں کو واپس لانے کی کارروائیوں میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ اس بات کا ذکر انسائیکلوپیڈیا "دائرة المعارف الفلسطينية" نے اپنی ویب سائٹ پر کیا ہے۔

حسن مصطفی 25 دسمبر 1914ء کو فلسطین کے ایک گاؤں بتیر میں پیدا ہوا۔ اس نے قاہرہ میں امریکی یونی ورسٹی سے تعلیم مکمل کی۔ اس کے بعد فلسطین واپس آ کر ایک سرکاری محکمے میں کام کیا اور پھر بیت المقدس میں بطور استاد ایک برس ذمے داریاں انجام دیں۔

سال 1939ء میں فلسطین میں برطانیہ کی شہری انتظامیہ نے حسن مصطفی اور بعض دیگر فلسطینی دانش وروں کی گرفتاری کاحکم جاری کیا۔ تاہم حسن نے پہلے ہی ان حالات کو بھانپ لیا تھا۔ وہ 12 گھنٹوں کے اندر پہلے اردن کوچ کر گیا اور پھر وہاں سے عراق منتقل ہو گیا۔ حسن 1943ء میں فلسطین واپس آ گیا اور پھر مختلف اداروں اور شخصیات کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا۔ اس کی وفات 1961ء میں دل کا دورہ پڑنے سے واقع ہوئی۔

اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو نے 2014ء میں فلسطینی گاؤں بتیر کو عالمی ورثے کی فہرست اور اُن عالمی ورثوں کی فہرست میں شامل کیا جن کو خطرات درپیش ہیں۔ یونیسکو کے مطابق بتیر کو سماجی ، ثقافتی اور جیو پولیٹیکل تغیرات کے سبب ناقابل تلافی نقصان پہنچا"۔

یاد رہے کہ 70 برس قبل اسرائیلی قبضے سے بچ جانے والا گاؤں اب اسرائیلی دیوار کے جال میں پھنس گیا۔ یونیسکو کے مطابق اس دیوار نے گاؤں کے کسانوں کو ان کھیتوں سے دور کر دیا جن پر وہ صدیوں سے کاشت کر رہے تھے۔