.

محمد بن سلمان کے ساتھ میری دوستی بہت عظیم ہے:ٹرمپ

200 ارب ڈالر کی دوطرفہ سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہے ہیں:ولی عہد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کل منگل کے روز واشنگٹن میں تفصیلی ملاقات ہوئی۔

اس موقع پر امریکی صدر ڈنلڈ ٹرمپ نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان تعلقات ماضی کے تمام ادوار کی نسبت سب سے زیادہ مضبوط اور بہترین ہیں۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کے ساتھ دوستی کو عظیم قرار دیا اور کہا کہ آنے والے وقت میں ان کی دوستی مزید مضبوط ہوگی۔

ٹرمپ نے کہا کہ ’سعودی ولی عہد نےمجھے اپنی میزبانی کا شرف بخشا۔ ہماری مضبوط اور دیرینہ دوستی نے ہمیں ایک بار پھر آپس میں ملایا ہے۔ ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ سعودی عرب اور امریکا کے درمیان باراک اوباما کے دور میں تعلقات مثالی نہیں تھے مگر میری حکومت میں سعودی عرب اور امریکا کے درمیان اعتماد اور تعلقات میں مزید استحکام آیا ہے۔ دونوں ملکوں کی جانب سے ایک دوسرے کے ہاں سرمایہ کاری سے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔ امریکا سعودی عرب کے دفاع کو مشرق وسطیٰ میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتا ہے۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے ٹرمپ نے مزید کہا کہ میں گذشتہ مئی میں سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس دورے کےدوران بہت سے امور پراتفاق رائے کیا گیا تھا۔

ایک دوسرے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے داعش کا قبضہ 100 فی صد ختم کردیا ہے۔ سعودی ول عہد کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں مشرق وسطیٰ کے تنازعات زیربحث آئے۔ ماضی میں طے پائے سمجھوتوں کو ہم عملی شکل دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

اس موقع پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے دو طرفہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ہم امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی کوشش کررہے ہیں۔

صحافیوں سے بات چیت میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ ہم ریاست اور دہشت گردی کے درمیان تعلق کو ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس حوالے سے الریاض میں ہونے والی کانفرنس سب سے شاندار اجلاس تھا۔

جب ان سے ایران کے جوہری پروگرام پر سمجھوتے کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پائے سمجھوتے کے بارے میں وہ عنقریب فیصلہ کن موقف جاری کریں گے۔

روس کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ ولادی میرپوتین کے چوتھی بار صدر منتخب ہونے پر میں نے انہیں مبارک باد پیش کی۔ میں نے ان سے دونوں ملکوں میں اسلحہ کی دوڑ، یوکرائن کے حالات، شام اور شمالی کوریا کے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا۔

دوسری جانب سعودی ولی عہد نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکا کے باہمی تعلقات قدیم ہیں۔ ہم80 سال سے ایک دوسرے کے حلیف ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان دفاع اور اقتصادیات کےشعبوں میں کئی دیرینہ معاہدے موجود ہیں اور ہم انہیں مزید وسعت دے رہے ہیں۔

ولی عہد کا کہنا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات نے 40 لاکھ افراد کو روزگار فراہم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم امریکا کے ساتھ مل کر 200 ارب ڈالر کا مشترکہ سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے امریکا اور سعودی عرب 400 ملین ڈالر کے مشترکہ سرمایہ کاری منصوبے پر اتفاق کرچکے ہیں۔