.

خطے میں ہماری مداخلت سے عالمی برادری کا کوئی تعلق نہیں:خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے عراق، شام، یمن اور دیگر عرب ممالک میں ایرانی مداخلت پر عالمی تنقید کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تحت خطے میں سرگرم ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ایرانی انقلابی اقدار کو فروغ دے رہےہیں۔ عالمی برادری کا خطے میں ایرانی مداخلت سے کوئی لینا دینا نہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مشہد میں امام علی رضا کے مزار پرعید نوروز کے موقع پر ایک خطاب میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ عالمی مداخلت کار پوری دنیا کے معاملات میں دخل اندازی کرتے ہیں اور ہمیں یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہم شام، عراق اور دوسرے ممالک میں مداخلت نہ کریں۔ میں پوچھتاہوں کہ تمہارا ایران کی خطے میں مداخلت سے کیا تعلق ہے۔

آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ خطے میں ہماری موجودگی وہاں کی حکومت کی درخواست کا نتیجہ ہے۔ اگر خطے کی کوئی حکومت اور وہاں کےعوام ہمیں اپنی معاونت کے لیے طلب کرتے ہیں تو ان کی مدد کرناعقل اور منطق دونوں کا تقاضا ہے۔ ان کا یہ بیان ایران کے ’IRIB‘ٹیلی ویژن چینل پر بھی نشر کیا گیا۔

ایرانی سپریم لیڈر کایہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں شام، یمن اور عراق میں ایرانی پاسداران انقلاب کی چھتری تلے لڑنے والے ایران نواز عسکری گروپوں کے اخراجات کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔

عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق سنہ2012ء سے ایران شام میں سرگرم ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر شیعہ عسکری گروپ جن میں افغان، پاکستانی، عراقی، لبنانی اور شامی جنگجو شامل ہیں لڑ رہےہیں۔ان کی مجموعی تعداد 70 ہزار سے زاید بتائی جاتی ہے۔