.

سعودیہ میں امریکی سرمایہ کاری کا حجم 207 ارب ریال سے متجاوز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنرل انویسٹمنٹ اتھارٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مملکت میں امریکی سرمایہ کاری کا حجم فروری2018ء تک 207 ارب ریال سے تجاوز کرگیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کی انویسٹمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک میں امریکی سرمایہ کار کمپنیوں کی تعداد 373 ہوگئی ہے جو سروسز، صنعت، رئیل اسیٹیٹ، سائنس، آرٹس اور دیگر شعبوں میں مستقل یا عارضی بنیادوں پر خدمات کر رہی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں امریکی سرمایہ کاری کا سب سے بڑا حصہ صنعتی شعبے میں ہے جہاں یہ حجم 193 ارب ریال تک جا پہنچا ہے۔ امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں 95 مختلف صنعتی منصوبوں میں کام کررہی ہیں۔ اس کے بعد سرروسز میں 245پروجیکٹ چل رہے ہیں جن پر امریکا نے 13.5 ارب ریال کی سرمایہ کاری کی ہے۔ تجارتی شعبے کے 9 منصوبوں کے لیے مشترکہ سرمایہ کاری کا حجم 30 کروڑ ریال، رئیل اسٹیٹ کے دو منصوبوں میں 16 ملین ریال کی سرمایہ کے ٹینڈر جاری کیے گئے ہیں۔

سال 2017ء کے دوران 16نئی امریکی کمپنیوں نے سعودی عرب میں سرمایہ کاری شروع کی۔ نئی سرمایہ کاری کا حجم 3 ارب 82 کروڑ 2 لاکھ 10 ہزار ریال تک جا پہنچا۔ گذشتہ برس صنعتی شعبے میں امریکی کمپنیوں کو سرمایہ کاری کے 13 ٹینڈر جاری کیے گئے۔

سعودی عرب امریکا کےلیے اہم مارکیٹ

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب امریکا کے لیے سال 2016ء کے دوران اہم مارکیٹ ثابت ہوا ہے۔ مملکت نے امریکی مارکیٹ کو اپنی کئی مصنوعات فراہم کرنا شروع کیں۔ ان میں معدنی مصنوعات، کیمیائی، سامان، سیمنٹ، ایلومینیم، رنگ سازی کا سامان، دوسری جانب سعودی عرب کوامریکا کی جانب سے اسپیئر پارٹس، ہوائی جہاز اور ان کے اسپئرپارٹس، میڈیکل کا سامان، بصری آلات، جدید ٹیکنالوجی اور اس کے متعلقہ آلات اور الیکٹرک کا سامان شامل ہیں۔

اصلاحات سرمایہ کے لیے کشش

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں اقتصادی شعبے میں لائی جانے والی اصلاحات بالخصوص ویژن 2030ء کے آغاز کے بعد غیرملکی سرمایہ کاری کا ایک نیا باب کھلا ہے۔

سعودی عرب میں سرمایہ کاری اور تجارت کے شعبوں میں ایک نئی تحریک پیدا ہوئی ہے۔ سعودی عرب میں تاجروں اور سرمایہ کاروں کو نیا اعتماد اور حوصلہ ملا ہے اور ان کی کارکردگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے عالمی ماہرین اقتصادیات کی معاونت سے مملکت میں سرمایہ کاری اور تجارت کےفروغ کے لیے مشترکہ منصوبوں پرکام کیا اور اسپیشل سیکٹر کو سرمایہ کاری میں اضافے کے نئے طریقوں سے آگاہی فراہم کی گئی۔ سرمایہ کاری کے نئی مواقع پیدا کیے گئے اور مملکت میں اقتصادی اصلاحات کے ذریعے غیرملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک کشش پیدا کی گئی۔