.

عرب دنیا میں ’’یوم ِ مادر‘‘ 21 مارچ کو کیوں منایا جاتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب دنیا میں باقی دنیا کے برعکس 21 مارچ کو یوم ِ مادر منایا جاتا ہے ۔اس روز عرب شہری اپنی ماؤں کو پھول دیتے ، تہنیتی پیغامات پر مبنی کارڈ بھیجتے اور ان سے محبت کے اظہار کے لیے تحائف دیتے ہیں ۔ان کے اعزاز میں خاندان کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں۔

مصر میں فراعنہ کے دور سے 21 مارچ کو ماؤں کا دن منایا جارہا ہے۔ مصری نوادرات کی تنظیم کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد بکر کے بہ قول فراعنہ خواتین کا بہت زیادہ احترام کیا کرتے تھے ۔اس کا ا ظہار ان کے مندروں میں کندہ تصاویر سے بھی ہوتا ہے کہ وہ کیسے خواتین اور بالخصوص ماؤں کو عزت دیتے تھے۔

وہ بتاتے ہیں قدیم فراعنہ دور کی ایک ملکہ عیسیس کو مادریت کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔قدیم مصری کشتیاں پھولوں سے لاد کر شہروں میں لاتے اور ماں کے دن کو مناتے تھے اور اپنی ماؤں کو یہ پھول پیش کرتے تھے۔قدیم یونانیوں اور رومیوں کے ہاں بھی یہ رسم جاری تھی۔

عیسیس کی تصویر روم میں بعض مندروں میں بھی کندہ ہے اور ان میں اسے ایک مقدس ماں کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ان مندروں میں بنی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قدیم مصر میں خواتین اور ماؤں کے اعزاز میں کیسے تقاریب منعقد کی جاتی تھیں۔

ڈاکٹر بکر کہتے ہیں کہ ماں کا دن قدیم تہذیبوں کے دور سے منایا جارہا ہے اور آج یہ عالمی سطح پر اس کی ایک ترقی یافتہ شکل میں منایا جارہا ہے۔ان کے بہ قول بعض مؤرخین کے نزدیک مارچ میں یہ دن منانے کا آغاز یونا نیوں نے کیا تھا کیونکہ اسی مہینے موسم بہار کا بھی آغاز ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فراعنہ خاص طور پر موسم بہار میں اس لیے یہ دن مناتے تھے کہ اس میں پھول کھلتے ہیں اور یہ ماں کی ممتا کی زندگی کی بھی علامت ہے کہ وہ کیسے زندگی کو جلا بخشتی ہے۔

مصری مؤرخ کے بہ قول جدید دور میں خواتین کا عالمی دن منانے کا سلسلہ انیسویں صدی میں امریکا میں جولیا وارڈ نامی ایک خاتون کارکن نے کیا تھا۔ انھوں نے امریکا کی خانہ جنگی میں اپنے بیٹوں سے محروم ہوجانے والی ماؤں کے لیے یومِ امن منانے کا ا علامیہ جاری کیا تھا۔

اس وقت وارڈ کی اس تجویز کو کوئی زیادہ پذیرائی نہیں ملی تھی بلکہ اس کو ایک طرح سے مسترد کردیا گیا تھا لیکن 1900ء کے اوائل میں خواتین کے حقوق کی علمبردار اینا جارویس کی قیاد ت میں خواتین کا قومی دن منانے کا آغاز ہوا تھا ۔ ان کی والدہ وارڈ کے ساتھ مل کر کام کرچکی تھیں۔

عرب دنیا میں ماں کا دن منانے کی تجویز مصری صحافی مصطفیٰ امین نے پیش کی تھی ۔انھوں نے 1943ء میں اپنی کتاب میں یوم مادر کا ذکر کیا تھا اور اس کے دس سال کے بعد حکومت کو باضابطہ طور پر یہ درخواست کی تھی کہ ماں کا دن منانے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جائے۔

مصطفیٰ نے ایک جفاکش مصری خاتون کی کہانی سے متاثر ہوکر اس مہم میں خاص طور پر دلچسپی لی تھی۔اس خاتون نے ان سے ان کے اخبار کے دفتر میں ملاقات کی تھی اور انھیں بتایا کہ اس نے اکیلے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کی پرورش کی تھی،اس کو پڑھایا لکھایا ، اعلیٰ تعلیم دلوائی اور ڈاکٹر بنایا۔ پھر اس کے لیے مکان خرید کیا تاکہ اس کی شادی کر سکے لیکن اس بیٹے کی شادی ہوگئی تو اس نے اپنی ماں سے ملنا جلنا ہی چھوڑ دیا جس سے وہ نفسیاتی مریض بن کر رہ گئی اور گھر میں کوئی بھی اس عظیم عورت کی دیکھ بھال کرنے والا نہیں تھا۔

مصری صحافی نے تب ملک کے وزیر تعلیم سے ماں کا دن منانے کے بارے میں بات چیت کی تھی ۔ان کی اس تجویز کی صدر جمال عبدالناصر نے منظوری دے دی اور انھوں نے 1956 میں یہ اعلان کیا کہ 21 مارچ کو ماؤں کا دن منایا جائے گا ۔ پھر مصر کی تقلید میں پوری عرب دنیا میں یہ دن منایا جانے لگا تھا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ جب مصطفیٰ امین کو امریکا کے لیے جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو مصری حکومت نے اس دن کو’’ خاندان کا دن‘‘ کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا تھا۔اس پر مصری خواتین نے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور حکومت کے اس فیصلے کو منظور نہیں کیا تھا۔ اس کے بعد پھر سے 21 مارچ کو ’’ یومِ مادر ‘‘ کے نام سے یہ دن منایا جارہا ہے۔